صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 378 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 378

صحیح البخاری جلد ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَّا نُشْرِكَ بِاللَّهِ کی بیعت کی تھی اور وہ کہتے تھے: ہم نے آپ کی شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ اس امر پر بیعت کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور نہ چوری کریں گے اور النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا نہ زناکریں گے اور نہ اس جان کو قتل کریں گے نَنْتَهِبَ وَلَا نَقْضِي (١) بِالْجَنَّةِ إِنْ فَعَلْنَا جس کی حرمت کا اللہ نے حکم دیا ہے سوائے جائز ذَلِكَ فَإِنْ غَشِيْنَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا طور پر ؛ اور لوٹ مار نہیں کریں گے اور ہم کسی كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ۔نافرمانی کا ارتکاب نہیں کریں گے۔اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمیں جنت ملے گی اور اگر ہم نے اس میں سے کسی بات کی خلاف ورزی کی تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔اطرافه ،۱۸، ۳۸۹۲، ۳۹۹۹، ۴۸۹۴، ۰۶۷۸۲ ۶۸۰۱، ۶۸۷۳، ۷۰۵۵، ۷۱۹۹، ۷۲۱۳، ۷۴۶۸ صل عليه۔۔۔۔كتاب بدء الخلق روایت نمبر ۳۲۳۱ میں آیا شريح۔وَفُوْدُ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ الله ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش مکہ سے مایوس ہو کر طائف کی طرف تشریف لے گئے اور بنو ثقیف کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کیا لیکن انہوں نے اسے رد کر دیا۔اس کے بعد آپ مکہ مکرمہ کو لوٹے اور حج کے موقع پر آپ ہر سال ایک ایک قبیلہ کے سردار سے ملتے اور اس کے سامنے اپنا دعویٰ پیش کرتے۔مگر قریش کے مقابلہ میں کسی کو جرات نہ ہوتی اور ان کا یہی جواب ہوتا: قَوْمُ الرَّجُلِ أَعْلَمُ بِهِ۔اس شخص کی قوم اسے بہتر جانتی ہے۔ہمیں کیا معلوم راستباز ہے یا نہیں۔( فتح الباری جزء ے صفحہ ۲۷۴) ۱۱ نبوی ماہِ رجب کا واقعہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ میں بیٹرب والوں سے ملاقات ہو گئی۔آپ نے حسب و نسب پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں اور یثرب سے آئے ہیں۔یہ تعداد میں چھ تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ کیا آپ لوگ میری کچھ باتیں سن سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا: ہاں آپ کیا کہتے ہیں ؟ آپ بیٹھ گئے اور ان کو اسلام کی دعوت دی اور قرآن شریف کی چند آیات سنا کر اپنے مشن سے آگاہ کیا۔ان لوگوں نے آپ کی آواز پر لبیک کہا اور سارے کے سارے مسلمان ہو گئے۔اگلے سال حج کے دنوں میں یعنی ۱۲ نبوی میں یثرب کے مسلمان ہونے والے چھ افراد اپنے ساتھ اور چھ افراد کو لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مکہ اور منیٰ کے درمیان عقبہ (گھائی) میں ملے اور سب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی۔یہ بیعت بیعت عقبہ اولیٰ کہلاتی ہے۔1) عمدۃ القاری میں اس جگہ وَلَا نَعْصِی ہے۔(عمدۃ القاری جزء صفحہ ۳۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔