صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 373 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 373

صحیح البخاری جلد ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار نَادَى مُنَادٍ أَمْضَيْتُ فَرِيْضَتِي کر چکا ہوں۔اس لئے آپ پھر اپنے رب کے پاس وَخَفَّفْتُ عَنْ عِبَادِي۔اطرافه ۳۲۰۷، ۳۳۹۳ ۳۴۳۰ جائیں اور اس سے درخواست کریں کہ آپ کی امت کیلئے کم کر دے۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے اس قدر درخواستیں کی ہیں کہ میں شرمندہ ہوں۔اب میں اس پر راضی ہوں اور اس کو تسلیم کرتا ہوں۔آنحضرت صلی الم نے فرمایا: جب میں آگے بڑھا تو پکارنے والے نے پکارا کہ میں نے جو کچھ مقرر کیا ہوا تھا اس کو نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف بھی کر دی ہے۔۳۸۸۸ حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۸۸۸ حمیدی نے ہمیں بتایا کہ سفیان سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ بن عیینہ) نے ہم سے بیان کیا۔عمرو بن دینار) ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ نے ہمیں بتایا۔عکرمہ سے روایت ہے کہ انہوں تَعَالَى: وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا التي ارينكَ إِلا نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ فِتْنَةً لِلنَّاسِ (بني إسرائيل: ٦١) قَالَ کے قول وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا کے متعلق روایت کی۔هِيَ رُؤْيَا عَيْنِ أُرِيَهَا رَسُوْلُ اللهِ یعنی وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھلائی وہ اس لئے دکھلائی کہ لوگوں کیلئے اسے آزمائش بنائیں حضرت ابن عباس نے کہا: یہ رویا آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول الله صل اللی کام کو اس رات دکھلایا گیا جس میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْآنِ هِيَ شَجَرَةُ آپ کو بیت المقدس تک سیر کروائی گئی۔حضرت الزَّقُوْمِ۔اطرافه: ۴۷۱۶، ۶۶۱۳ - ابن عباس نے کہا اور شجرہ ملعونہ جس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے وہ زقوم کا درخت ہے۔تشریح الْمِعْرَاج : امام بخاری نے اسراء اور معراج کے واقعات بیان کرنے کے لئے دو علیحدہ علیحدہ عنوان قائم کئے ہیں۔ابن دحیہ نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک اسراء