صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 374
صحیح البخاری جلد ۳۷۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار اور معراج دو الگ الگ واقعات ہیں۔(فتح الباری جزء 2 صفحہ ۲۴۷) ابن دحیہ کی یہ رائے بالکل صحیح ہے۔کیونکہ اسراء کا واقعہ ۱۱ یا ۱۲ نبوت کا بتایا جاتا ہے جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد حرام سے بیت المقدس تک لے جایا گیا اور آپ نے انبیاء کی امامت کی۔معراج کے واقعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس نہیں گئے بلکہ سید ھے آسمان پر گئے اور انبیاء سے آپ کی ملاقات ہوئی اور دن اور رات میں پانچ نمازوں کے ادا کرنے کی فرضیت ہوئی۔پانچوں نمازوں کے فرض ہونے کا زمانہ شروع زمانہ نبوت ہے۔کیونکہ نماز میں شروع اسلام سے فرض ہیں اور ایک سال بھی نبوت کے بعد ایسا نہیں گزرا جس میں نمازیں فرض نہ ہوں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج نبوت کے بالکل ابتدائی ایام میں ہوا ہے جس میں آپ کو بتایا گیا تھا کہ آپ تمام انبیاء سے آگے نکل جائیں گے۔بعض بزرگان کے نزدیک معراج ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ ہوا ہے۔ایک دفعہ ابتدائی ایام نبوت میں جبکہ شرعی نبوت کی بنیاد پڑی اور نمازیں فرض کی گئیں اور دوسرا معراج ۵ نبوت میں یا اس سے کچھ دیر پہلے۔کیونکہ اس کا ذکر سورۃ النجم میں آتا ہے اور یہ سورۃ ۵ نبوت میں نازل ہوئی تھی۔پس دونوں واقعات کا دو علیحدہ علیحدہ زمانوں میں ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ دونوں واقعات علیحدہ علیحدہ ہیں۔ابن حجر" شارح بخاری کا خیال ہے کہ امام بخاری کے نزدیک اسراء اور معراج دو الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی واقعہ ہے اور انہوں نے اس کی یہ دلیل دی ہے کہ امام بخاری نے کتاب الصلوۃ میں فرضیت نماز کے بیان میں وہی حدیث بیان کی ہے جو معراج کے عنوان کے تحت بیان کی گئی ہے۔لیکن کتاب الصلواۃ میں اس کا عنوان یہ قائم کیا ہے۔كَيْفَ فُرِضَتِ الصلوةُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ (بابا) امام ابن حجر" کے نزدیک ایک ہی حدیث کے دو عنوان قائم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ امام بخاری دونوں واقعات کو ایک ہی سمجھتے ہیں۔(فتح الباری جزء کے صفحہ ۲۴۷) میرے نزدیک ابن حجر" کا یہ استدلال درست نہیں۔کیونکہ عربی زبان میں خواہ آسمان پر جانے کا ذکر ہو یازمین پر سفر کرنے کا اگر رات کو کوئی سفر ہو تو اسے اسراء ہی کہیں گے۔اس وجہ سے معراج کے متعلق بھی اسراء کا لفظ بولا جاتا تھا اور بیت المقدس کی طرف جانے کے واقعہ کے متعلق بھی اسراء کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔کیونکہ یہ دونوں واقعات رات کے وقت ہوئے تھے۔پس امام بخاری نے معراج کی حدیث کا عنوان کتاب الصلوۃ میں گیف فُرِضَتِ الصَّلَوةُ لَيْلَةَ الْإِسْرَاءِ قائم کر کے اور زیر بحث ابواب میں اسراء اور معراج کے علیحدہ علیحدہ عنوان قائم کر کے اور ان کے تحت علیحدہ علیحدہ احادیث لا کر یہ بتایا ہے کہ معراج کی حدیث کے لئے اگر اسراء کا لفظ استعمال ہوا ہے تو صرف لغوی طور پر ، وگرنہ یہ دونوں واقعات علیحدہ علیحدہ ہیں۔