صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 367
صحیح البخاری جلد ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار بَاب ٤٢ : الْمِعْرَاجُ معراج ۳۸۸۷ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ : ۳۸۸ بد به بن خالد نے ہمیں بتایا کہ ہمام بن حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ يجي نے ہم سے بیان کیا۔قتادہ (بن دعامہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت انس بن مالک سے ، عَنْ أَنَسِ بْن مَالِكِ عَنْ مَّالِكِ بْن حضرت انس نے حضرت مالک بن صعصعہ اے صَعْصَعَةً رَضِيَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ سے روایت کی کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ عَنْ سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس رات کو لَيْلَةِ أُسْرِيَ بِهِ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا فِي آپ لے جائے گئے۔فرماتے تھے: اس اثناء میں کہ میں حطیم میں تھا اور کبھی آپ نے فرمایا: حجر میں الْحَظِيْمِ وَرُبَّمَا قَالَ فِي الْحِجْرِ لیٹا ہوا تھا کہ اتنے میں میرے پاس ایک آنے والا مُضْطَجِعًا إِذْ أَتَانِي آتٍ فَقَدَّ قَالَ آیا اور اس نے چیر ڈالا۔قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ فَشَقَّ مَا بَيْنَ هَذِهِ حضرت انس کو یہ بھی کہتے سنا کہ یہاں سے یہاں إِلَى هَذِهِ فَقُلْتُ لِلْجَارُوْدِ وَهُوَ إِلَى تک چیر ڈالا۔تو میں نے جارود ( بن ابی سبرہ) سے جَنْبِي مَا يَعْنِي بِهِ قَالَ مِنْ تُغْرَةِ کہا اور وہ میرے پاس ہی تھے : اس سے آپ کی کیا مراد تھی؟ انہوں نے کہا کہ ڈگرگی (یعنی ہنسلی نَحْرِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ مِنْ کی ہڈی سے ناف تک اور میں نے حضرت انس قَصِهِ إِلَى شِعْرَتِهِ فَاسْتَخْرَجَ قَلْبِي سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ سینے کے سرے سے ناف ثُمَّ أُتِيْتُ بِطَسْتِ مِنْ ذَهَبٍ مَمْلُوْءَةٍ تک چیر کر میرا دل نکالا۔پھر میرے پاس ایک إِيْمَانًا فَغُسِلَ قَلْبِي ثُمَّ حُشِيَ ثُمَّ سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا۔أُعِيْدَ ثُمَّ أُتِيْتُ بِدَابَّةٍ دُونَ الْبَغْل پھر میرا دل دھویا گیا۔پھر اس کو اندر ڈال دیا گیا۔اس کے بعد میرے پاس ایک جانور لایا گیا جو خچر وَفَوْقَ الْحِمَارِ أَبْيَضَ فَقَالَ لَهُ سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔سفید رنگ کا الْجَارُوْدُ هُوَ الْبُرَاقُ يَا أَبَا حَمْزَةَ تھا۔جارود نے حضرت انس سے کہا کہ ابوحمزہ یہی قَالَ أَنَسٌ نَعَمْ يَضَعُ خَطْوَهُ عِنْدَ براق ہوتا ہے؟ حضرت انس نے کہا: ہاں۔وہ اپنی