صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 366 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 366

صحیح البخاری جلدے FYY ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار سامنے جبرائیل نے تین پیالے پیش کئے۔ایک پانی کا، ایک دودھ کا اور ایک شراب کا۔آپ نے دودھ لے کر پی لیا تو آپ کو جبرائیل نے کہا: آپ نے فطرت صحیحہ کو پالیا۔اگر آپ پانی پی لیتے تو آپ بھی غرق ہوتے اور آپ کی امت بھی غرق ہوتی اور اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ بھی گراہ ہوتے اور آپ کی امت بھی گمراہ ہو جاتی۔پھر آپ کے سامنے آدم اور دیگر انبیاء لائے گئے اور اس رات ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔پھر آپ کو جبرائیل نے کہا کہ جو بڑھیا آپ نے رستہ کے ایک جانب دیکھی تھی وہ دنیا تھی اور اس کی عمر سے اسی قدر باقی ہے کہ جو اس بڑھیا کی عمر سے باقی ہے اور جو شخص رستہ سے ہٹ کر آپ کو بلاتا تھاتا آپ اس کی طرف مائل ہوں وہ خدا کا دشمن ابلیس تھا اور وہ لوگ جنہوں نے آپ کو السلام علیک کہا تھا وہ ابراہیم ، موسیٰ، عیسی غیر ھم تھے۔(جامع البيان في تأويل القرآن ، سورة الاسراء آیت سبحان الذي أسرى بعبده، جزء اصفحہ ۳۳۶) روایت زیر باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ بات بتائی تو لوگوں نے کہا کہ اگر آپ بیت المقدس سے ہو آئے ہیں تو اس کا نقشہ بتائیں۔تو آپ فرماتے ہیں کہ ان کے سوال کرنے کے بعد پھر مجھ پر کشف کی حالت طاری ہوئی اور کشف میں بیت المقدس کا نقشہ سامنے کر دیا گیا تو میں اس کو دیکھتا جاتا تھا اور پھر لوگوں کو بتاتا جاتا تھا۔اس واقعہ کے متعلق ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت معاویہ سے روایت کی ہے کہ إِذَا سُئِلَ عَنْ مَسْرَى رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَانَتْ رُؤْيَا مِنَ اللهِ صَادِقَةٌ - (الدر المنثور ، تفسير سورة الاسرى، آیت سبحان الذی اسرى بعبده جزء ۵ صفحه ۲۲۷) یعنی جب حضرت معاویہ سے اسراء کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رویا تھی جو پوری ہو گئی۔اسراء کا واقعہ کشفی واقعہ تھا اور کشوف ورڈ یا تعبیر طلب ہوتے ہیں اور اسراء والے کشف کی تعبیر یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے مدینہ ہجرت کرنی پڑے گی۔بیت المقدس جو آپ کو دکھایا گیا اس سے مراد مسجد نبوی کی تعمیر تھی۔جس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیت المقدس سے بھی زیادہ عزت دی جانے والی تھی اور یہ جو اس کشف میں دکھایا گیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب انبیاء کی امامت کرائی ہے اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کا سلسلہ عربوں سے نکل کر دوسری اقوام میں بھی پھیلنے والا ہے اور سب انبیاء کی امتیں اسلام میں داخل ہوں گی اور یہ اشاعت مدینہ میں جانے کے بعد ہو گی اور اس میں اس طرف بھی اشارہ تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کے علاقہ کی حکومت دی جائے گی تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر کبیر مصنفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جلد چہارم، تفسیر سورۃ بنی اسرائیل، آیت سبحان الذي أسرى بعبده۔۔۔صفحه ۲۷۹ تا ۲۹۸-