صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 365 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 365

صحیح البخاری جلدے ۳۶۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ الله نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہما سے میں نے سنا۔کہتے تھے کہ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَمَّا كَذَّبَنِي قُرَيْسٌ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللهُ لِي کہ جب قریش نے مجھے بیت المقدس تک جانے بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ کے بارہ میں جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہو گیا آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ۔طرفة : ۴۷۱۰۔اور اللہ نے بیت المقدس کو میرے سامنے صاف طور پر ظاہر کر دیا اور میں اسے دیکھ کر ان کو پتہ اور نشان بتلانے لگا۔تشریح : حَدِيثُ الْإِسْرَاءِ: أَسْرَى کے معنی ہیں وہ رات کے وقت چلا اور اشتری ہو کے معنی ہیں: اس کو رات کے وقت چلایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رویا میں یہ نظارہ دیکھا کہ آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک رات کے وقت لے جایا گیا۔یہ واقعہ تاریخ اسلام میں الاسراء کے نام سے مشہور ہے۔اس واقعہ کی نسبت زرقانی شرح مواہب میں لکھا ہے کہ 11 سال بعد نبوت ربیع الاول یار بیع الثانی یا ر جب یا شوال میں ہوا ہے۔(شرح العلامه الزرقاني على مواهب اللدنيه، وقت الإسراء، جزء دوم صفحہ ۶۷) اس واقعہ کی تفصیلات یہ ہیں: ابن جریر، حضرت انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: جب جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس براق لائے تو اس نے اپنی دم ہلائی۔یعنی کچھ انکار کیا۔تو اسے جبرائیل نے کہا: آرام سے کھڑارہ ، اے براق !خدا کی قسم تجھ پر ایسا سوار کبھی نہیں بیٹھا۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر چڑھ کر روانہ ہوئے تو راستے میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بڑھیا راستہ کی ایک جانب کھڑی ہے تو آپ نے فرمایا: اے جبرائیل ! یہ کون ہے ؟ تو جبرائیل نے کہا: چلتے چلئے اے محمد۔راوی کہتا ہے کہ پھر آپ چلے جتنا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء تھا۔تو کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص راستہ کی ایک جانب سے آپ کو بلا رہا ہے اور کہتا ہے کہ ادھر آئیے اے محمد ! اس پر جبرائیل نے پھر آپ کو بولنے سے منع کیا اور کہا کہ اے محمد چلئے چلئے اور کچھ جواب نہ دیجئے۔پھر آپ آگے چلے جتنا کہ خدا کی مرضی تھی۔راوی کہتا ہے کہ پھر آپ کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کچھ لوگ ملے تو انہوں نے کہا: السلام عَلَيْكَ يَا أَولُ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا آخِرُ، السَّلامُ عَلَيْكَ يَا حَاشِرُ۔اس پر جبرائیل نے کہا : اے محمد ! ان کو سلام کا جواب دیجئے تو آپ نے ان کو سلام کا جواب دیا۔پھر آپ کو ایسی ہی ایک اور جماعت ملی۔اس نے بھی پہلی جماعت کے الفاظ میں آپ کو سلام کہا۔پھر آپ آگے چلے یہاں تک کہ آپ بیت المقدس تک پہنچے۔تو آپ کے