صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 364 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 364

صحیح البخاری جلد ۳۶ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار فرماتا ہے : مَا كَانَ لِلنَّبِي وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَ لَوْ كَانُوا أُولِي قُرْنِي مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَبُ الْجَحِيمِ ) (التوبة: ۱۱۳) نبی اور مومنوں کو نہیں چاہیے کہ مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کریں خواہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر واضح ہو گیا ہو کہ وہ آگ کی سزا کے مستحق ہیں۔سورۃ توبہ مدنی ہے۔وہ میں نازل ہوئی تھی اور ابو طالب کی وفات ۱۰ نبوی میں ہوئی اور یہ سال تاریخ اسلام میں عام الحزن کے نام سے مشہور ہوا۔حضرت خدیجہ نے بھی اسی سال رحلت فرمائی۔مشرکین کے لئے عدم استغفار سے متعلق متعدد آیات ہیں۔ابو طالب کی وفات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید صدمہ ہوا۔آپ کا دل اپنے محسن چچا کے لئے جذبات محبت اور ہمدردی سے بھرا ہوا تھا۔لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو احکام الہی کا انتہائی ادب ملحوظ تھا۔اسی پاک نمونہ پر آپ کار بند رہے۔سر مواس سے ادھر اُدھر نہیں ہوئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لا يَنكُم اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمُ إنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنة: 9) یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے نیکی کرنے اور عدل کا معاملہ کرنے سے روکتا نے تم کو سے اللہ نہیں روکتا جو تم سے دینی اختلاف کی وجہ سے نہیں لڑے اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔غیر مسلموں سے نیک سلوک کے بارے میں اس آیت کا سیاق و سباق واضح ہے۔امام بخاری الفاظ کے اختیار کرنے میں باریک سے باریک فرق ملحوظ رکھتے ہیں۔باب کا عنوان لفظ قصَّةُ (أَبِي طَالِبٍ) سے کیوں باندھا ہے ؟ یہ امر بھی قابل غور ہے۔عربی میں قصہ بمعنی واقعہ اور بیان واقعہ دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔اردو میں تو اس لفظ کے معنی صرف کہانی کے ہی ہوتے ہیں۔بَاب ٤١ : حَدِيثُ الْإِسْرَاءِ اسراء کا واقعہ وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى: سُبُحْنَ الَّذِی اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تمام نقائص سے پاک ہے أسرى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وہ خدا جو اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ إلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا۔(بني إسرائيل: ٢) تک رات کے وقت لے گیا۔٣٨٨٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا :۳۸۸۶ يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے ، عقیل نے حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابن شہاب سے روایت کی کہ ابو سلمہ بن عبد الرحمن