صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 361 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 361

صحیح البخاری جلدی ۳۶۱ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ختم کرنے سے وہ ایک بہت بڑا نیک کام بجالانے والے ہوں گے۔ مگر اس منصوبے میں وہ خائب و خاسر رہے۔ آپ مع حضرت ابو بکر خدائے واحد پر تو ابو بکر خدائے واحد پر توکل کرتے ہوئے سراقہ بن جشم کے علاقہ سے گزرے جو دشمن قبائل کا علاقہ تھا۔ قریش نے آپ کو گرفتار کرنے کے لئے یک صد اُونٹ انعام کا اعلان کیا۔ آپ تو کل کے خارق عادت مقام پر تھے۔ مطلق ہراساں نہیں ہوئے ۔ وعدہ الہی وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ( المائدة : ۶۸) پر آپ کو کامل یقین تھا۔ مذکورہ بالا منصوبہ و تعاقب سے متعلق جو واقعات مستند روایات اور تاریخ اسلام میں بیان ہوئے ہیں ، ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔ بَاب ٤٠ : قِصَّةُ أَبِي طَالِبٍ حضرت ابو طالب کا واقعہ ۳۸۸۳ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى ۳۸۸۳ مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ یحی (بن عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ سفیان (ثوری) سے حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا روایت ہے۔ (انہوں نے کہا:) عبد الملک (بن الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عمیر) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن حارث عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے ہمیں بتایا کہ حضرت عباس بن عبد المطلب مَا أَغْنَيْتَ عَنْ عَمِكَ فَإِنَّهُ كَانَ نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی صلی الیم الله اللہ رضي عنه ۔ صا يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ هُوَ فِي سے کہا کہ آپ اپنے چچا کے کیا کام آئے؟ وہ تو آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کی خاطر ضَحْصَاحٍ مِنْ نَّارٍ وَلَوْلَا أَنَا لَكَانَ فِي ناراضگی کا اظہار کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: الدَّرَكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔ اطرافه: ۶۲۰۸، ۶۵۷۲ وہ آگ میں ٹخنوں تک ہیں اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوتے۔ ٣٨٨٤: حَدَّثَنَا مَحْمُوْدٌ حَدَّثَنَا ۳۸۸۴: محمود بن غیلان) نے ہمیں بتایا کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے ہمیں الزُّهْرِيِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيْهِ بتایا۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سعید بن أَنَّ أَبَا طَالِبٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ میب سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی