صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 362
صحیح البخاری جلدے ۳۶۲ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار دَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کہ جب حضرت ابو طالب کی وفات کا وقت آیا، وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أَبُو جَهْلِ فَقَالَ أَيْ ان کے پاس نبی صلی ای کم آئے۔اس وقت ان کے عَمّ قُلْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ كَلِمَةً أَحَاجُ پاس ابو جہل بیٹھا تھا۔آنحضرت کلام نے فرمایا: ا لا إِلهَ إِلَّا اللہ کہیں۔یہ ایسا کلمہ ہے جس کے لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُو جَهْلِ وسیلہ سے میں اللہ کے حضور آپ کے لئے بات وَعَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ يَا أَبَا طَالِبٍ کر سکوں گا۔ابو جہل اور عبد اللہ بن ابو امیہ نے تَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَمْ کہا: ابو طالب ! کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے يَزَالَا يُكَلِّمَانِهِ حَتَّى قَالَ آخِرَ شَيْءٍ اعراض کرو گے؟ وہ دونوں ان سے گفتگو کرتے كَلَّمَهُمْ بِهِ عَلَى مِلَّةِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رہے۔یہاں تک کہ آخری بات جو ابو طالب نے فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ان سے کی وہ یہ تھی کہ میں عبد المطلب کے مذہب لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ مَا لَمْ أَنْهَ عَنْهُ فَنَزَلَتْ پرہی ہوں۔نبی صلی نیلم نے فرمایا کہ میں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس مَا كَانَ لِلنَّبِي وَ الَّذِينَ آمَنُوا أَنْ سے روک نہ دیا جائے۔پھر یہ آیت اتری: نبی کو يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَ لَوْ كَانُوا أُولى اور آپ پر ایمان لانے والوں کو مشرکوں کے لئے قُرْبى مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُم استغفار نہیں کرنی چاہیے خواہ وہ ان کے قریبی أصحبُ الْجَحِيمِ ) (التوبة: ١١٣) رشتہ دار ہی ہوں جبکہ ان پر یہ بات پورے طور وَنَزَلَتْ : إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ۔پر واضح ہو چکی ہو کہ وہ دوزخ کے مستحق ہیں۔اسی (القصص: ۵۷ طرح یہ آیت اتری: اے نبی! آپ جس کے متعلق چاہیں اس کو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ ہی اطرافه ۱۳۶۰ ، ۴۶۷۵، ۴۷۷۲، ۵۶۵۷، ۶۶۸۱- سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔٣٨٨٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوْسُفَ ۳۸۸۵ عبد اللہ بن یوسف نے ہمیں بتایا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ عَنْ (بن سعد) نے ہم سے بیان کیا کہ (یزید بن عَبْدِ اللهِ بْنِ حَبَّابٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عبد الله بن ہاد نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبد اللہ