صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 360
صحیح البخاری جلد PY ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار جو اب انہوں نے اثبات میں دیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ اقرار کافی سمجھا ہے۔اس کے بعد فقیہانہ سوالات کا دروازہ بند ہو جانا چاہیے۔باب ۳۹ تَقَاسُمُ الْمُشْرِكِيْنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مشرکوں کا آپس میں قسمیں کھا کر عہد و پیمان کرنا ۳۸۸۲ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ :۳۸۸۲ عبد العزیز بن عبد اللہ (اویسی) نے ہم عَبْدِ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سے بیان کیا، کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔سَعْدِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ انہوں نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے، ابوسلمہ نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ أَرَادَ حُنَيْنًا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حسنین کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ کل ہمارا ڈیرہ انشاء اللہ بنو کنانہ کے ٹیلہ پر ہو گا۔جہاں قریش نے کفر پر رہنے کی رَضِيَ مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوْا عَلَى الْكُفْرِ۔باہم قسمیں کھائی تھیں۔اطرافه : ۱۵۸۹، ۱۵۹۰، ۴۲۸۴، ۴۲۸۵، ۷۴۷۹ تشريح : تَفَاسُرُ الْمُشْرِكِينَ عَلَى النَّبِي : یہ واقعہ بہت سے ساتویں سال کا ہے۔یکم محرم بعثت کو مشورہ قرار پایا جو مشرکین کے نزدیک قابل عزت مہینہ تھا اس کی بھی پرواہ نہیں کی گئی۔روایت زیر باب سے متعلق اس قدر بتانا ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول (حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ) غزوہ حنین کے موقع سے متعلق ہے کہ کل ہم خیف بنی کنانہ میں ہوں گے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۲۴۱، ۲۴۲) اور یہ وہ مقام تھا جہاں آپ کے قتل کا منصوبہ پہلے تیار ہوا تھا اور پھر دارالندوہ میں پختہ کیا گیا۔دارالندوہ میں قریش کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا مشورہ اور قسمیں کھانے کا واقعہ تاریخ اسلام میں مشہور ہے۔اس کے لئے تقریباً یک صد لوگ جمع ہوئے اور قرار پایا کہ تمام قبائل میں سے ایک ایک جواں مرد تلوار لے کر نکلے اور سب مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بیک بار ٹوٹ پڑیں۔اس طرح قبیلہ بنی عبد مناف کو سب کا مقابلہ کرنے کی جرات نہ ہو گی اور اگر دیت یعنی خون بہا کا سوال پیدا ہوا تو وہ تمام قبائل پر بٹ جائے گی؛ بلکہ سمجھا گیا کہ گویا آنحضرت