صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 359 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 359

صحیح البخاری جلدے ۳۵۹ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ شِهَابٍ قَالَ باپ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے صالح (بن کیسان) حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن سے، صالح نے ابن شہاب سے روایت کی وَابْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ کہ انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ابن میب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو بتایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہ حبشہ کی موت کی خبر اس دن دی جس دن کہ وہ فوت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَى لَهُمُ النَّجَاشِيَّ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيْهِ وَقَالَ اسْتَغْفِرُوا ہوا اور آپ نے فرمایا: اپنے بھائی کے لئے تم لأَخِيكُمْ۔اطرافه ۱۲۴۵، ۱۳۱۸، ۱۳۲۷، ۱۳۲۸، ۱۳۳۳، ۳۸۸۱ أَبَا دعائے مغفرت کرو۔۳۸۸۱: وَعَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ۳۸۸۱) اور (اسی سند سے ) صالح ( بن کیسان) قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ سے مروی ہے۔صالح نے ابن شہاب سے روایت هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمْ أَنَّ کی۔انہوں نے کہا: سعید بن مسیب نے مجھ سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید گاہ میں لوگوں کو صف بستہ کھڑا کیا اور پھر نجاشی کا صَفَّ بِهِمْ فِي الْمُصَلَّى فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا۔جنازہ پڑھایا اور آپ نے چار تکبیریں کہیں۔اطرافه: ۱۲۴۵، ۱۳۱۸، ۱۳۲۷، ۱۳۲۸، ۱۳۳۳، ۳۸۸۰ تشریح : مَوْتُ النَّجَاشِي : اس باب اور اس کی چار روایات کے تعلق میں دیکھئے کتاب الجنائز تشریح باب ۴ روایت نمبر ۱۲۴۵ اور باب ۶۴ روایت نمبر ۱۳۳۴۔نجاشی کا جنازہ پڑھنے کے تعلق میں فقہاء کی طرف سے یہ بحث اٹھانا کہ آیا وہ مسلمان تھا یا نہیں غیر مناسب ہے۔اول تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بعد یہ سوال اٹھانا سوء ادب ہے۔ہم کون ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کے متعلق جو از یا عدم جواز کی بحث چھیڑیں۔نجاشی مرحوم کا اظہار حسن عقیدہ اور اس کا حسن سلوک ہی دعائے مغفرت و رحمت کا متقاضی تھا۔قطع نظر اس سے کہ ثابت ہو یا نہ ہو کہ وہ مسلمانوں کی طرح ارکان اسلام کا پابند تھا یا نہیں۔یہ بات یقینی ہے کہ وہ توحید کا قائل تھا اور آج کل کے عقیدہ تثلیث و الوہیت مسیح کا منکر۔علاوہ ازیں جو تبلیغی خطوط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شابان ممالک کو لکھے ان میں نجاشی شاہ حبشہ کے نام بھی آپ کا ایک خط ہے جس کا