صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 355
صحیح البخاری جلد ۳۵۵ - كتاب مناقب الأنصار الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔اس میں تصویریں إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ تھیں۔انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: (اہل کتاب ) لوگوں کا یہ طریق تھا کہ جب ان میں سے کوئی نیک شخص مَسْجِدًا وَصَوَّرُوْا فِيْهِ تِيْكَ الصُّوَرَ وفات پا جاتا تو اس کی قبر پر عبادت خانہ بنا أُولَئِكَ شِرَارُ النَّاسِ () عِنْدَ اللہ دیتے اور اس میں ایسی تصویریں بناتے۔یہ لوگ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن ساری اطرافه ۴۲۷، ۴۳۴، ۱۳۴۱ مخلوقات سے بدترین ہوں گے۔٣٨٧٤: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا :۳۸۷۴ حمیدی نے ہم سے کہا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عیینہ نے ہم سے بیان کیا کہ اسحاق بن سعید السَّعِيْدِيُّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أُمّ خَالِدٍ بِنْتِ سعیدی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، خَالِدٍ قَالَتْ قَدِمْتُ مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ ان کے باپ نے حضرت ام خالد بنت خالد سے وَأَنَا جُوَيْرِيَةٌ فَكَسَانِي رَسُولُ اللهِ روایت کی۔وہ کہتی تھیں: میں حبشیوں کے ملک صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمِيْصَةً لَّهَا ہے آئی تو اس وقت میں کم عمر بچی تھی۔رسول اللہ أَعْلَامٌ فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک نقش دار چادر اُڑھائی۔اس پر بیل بوٹے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْأَعْلَامَ بِيَدِهِ علیہ وسلم ان بیل بوٹوں پر اپنا ہاتھ پھیر نے لگے وَيَقُوْلُ سَنَاهُ سَنَاهُ۔قَالَ الْحُمَيْدِيُّ اور یہ فرماتے تھے: سناہ، سناہ ! حمیدی نے کہا: اس يَعْنِي حَسَنٌ حَسَنٌ۔اطرافه : ۳۰۷۱، ۵۸۲۳، ۵۸۴۵، ۵۹۹۳ کے معنی ہیں: یہ بہت ہی خوبصورت ہے۔۳۸۷٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ۳۸۷۵ يحي بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ ابو عوانہ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان (اعمش) سے، إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ سلیمان نے ابراہیم (شخصی) سے ، ابراہیم نے علقمہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی سے ، عالقمہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) 1) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ لفظ الخلق ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۲۳۶) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔