صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 354 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 354

صحیح البخاری جلد ۳۵۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَلِيًّا أَنْ يَجْلِدَهُ وَكَانَ هُوَ يَجْلِدُهُ بات جو تم نے ولید بن عقبہ کے متعلق ذکر کی ہے وَقَالَ يُونُسُ وَابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنِ اس کے متعلق جو واجب ہے وہ ہم انشاء اللہ ضرور الزُّهْرِيِّ أَفَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمْ مِنَ الْحَقِّ کریں گے۔عبید اللہ کہتے تھے: چنانچہ حضرت عثمان نے ولید کو چالیس کوڑے لگوائے اور حضرت علی کو اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا اور وہی اس کو کوڑے مار رہے تھے۔یونس اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ روایت کئے: پھر کیا میرا تم پر ویسا حق نہیں جیسا ان کا تھا۔مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ۔قَالَ أَبُو عَبْد الله : بَلاء من ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: بَلاءُ مِّن رَّبِّكُمُ ربَّكُم (البقرة: ٥٠) مَا ابْتُلِيتُمْ بِهِ مِنْ سے مراد وہ (معاملہ) ہے جس سے تم شدید آزمائے شِدَّةٍ وَفِي مَوْضِعِ الْبَلَاءُ الْإِبْتِلَاءُ گئے۔اور لفظ البلاء آزمائش میں ڈالنے اور خالص وَالتَّمْحِيْصُ، مَنْ بَلَوْتُهُ وَمَحَصْتُهُ أَيْ بنانے کے معانی میں بھی آیا ہے۔مَنُ بَلَوْتُهُ وَمَخَضتُہ کے معنی ہیں کہ جو کچھ اس کے اندر تھا اسْتَخْرَجْتُ مَا عِنْدَهُ يَبْلُوْ يَخْتَبِرُ، میں نے اسے باہر نکال لیا۔یبگو کے معانی ہیں مبتليكم (البقرة: ٢٥٠) مُخْتَبِرُكُمْ وَأَمَّا وہ جانچتا ہے۔مُبْتَلِیکم کے معانی ہیں تمہیں ووس قَوْلُهُ بَلَاءٌ عَظِيْمٌ النِّعَمُ وَهِيَ مِنْ آزمانے والا۔اور اللہ تعالیٰ کا قول بَلَا عَظِيمُ نعماء سے متعلق ہے اور یہ ابلیتُہ سے ہے۔اور وہ ( یعنی لفظ ابتلاء) ابْتَلَيْتُهُ سے ہے۔أَبْلَيْتُهُ وَتِلْكَ مِنَ ابْتَلَيْتُهُ۔اطرافه: ۳۶۹۶، ۳۹۲۷۔۳۸۷۳ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۳۸۷۳ محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي ( بن سعید قطان ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام ( بن عروہ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے أُمَّ حَبِيْبَةَ وَأُمَّ سَلَمَةَ ذَكَرَنَا كَنِيْسَةً روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ حضرت ام حبیبہ رَأَيْنَهَا بِالْحَبَشَةِ فِيْهَا تَصَاوِيْرُ فَذَكَرَتَا اور حضرت ام سلمہ نے ایک گرجا کا ذکر کیا جسے