صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 353
صحیح البخاری جلدی ۳۵۳ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار صد الله سل صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ لَا دیں۔ حضرت عثمان نے یہ سن کر مجھ سے کہا: میرے وَلَكِنْ قَدْ خَلَصَ إِلَيَّ مِنْ عِلْمِهِ مَا بھتیجے! کیا تم تم نے رسول اللہ صلی علیہم کا زمانہ پایا ہے؟ خَلَصَ إِلَى الْعَذْرَاءِ فِي سِتْرِهَا قَالَ عبید اللہ کہتے تھے: میں نے کہا: نہیں، مگر مجھے فَتَشَهَّدَ عُثْمَانُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ انحضرت صلی علیم کے علم سے وہ کچھ پہنچ چکا ہے جو بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک کنواری کو بھی اس کے پردے میں معلوم ہو چکا ہے۔ عبید اللہ کہتے تھے : تب حضرت عثمان نے بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَكُنْتُ کلمہ شہادت پڑھا اور کہا: بے شک اللہ نے محمد مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَآمَنْتُ لام کو برحق مبعوث کیا اور ان پر کتاب اتاری بِمَا بُعِثَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ اور میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَاجَرْتُ الْهِجْرَتَيْنِ اور اس کے رسول کو قبول کیا اور جو دین محمد الام الْأَوْلَيَيْنِ كَمَا قُلْتَ وَصَحِبْتُ کو دے کر بھیجا گیا اس پر میں ایمان لایا اور جیسا تم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا ہے، میں نے پہلی دو ہجرتیں بھی کیں اور وَبَايَعْتُهُ وَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ رسول الله صلی علیم کے ساتھ رہا اور آپ کی بیعت حَتَّى تَوَفَّاهُ اللهُ ثُمَّ اسْتَخْلَفَ الله کی اور بخدا میں نے آپ کی نافرمانی نہیں کی اور نہ أَبَا بَكْرٍ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وَلَا غَشَشْتُهُ آپ سے کوئی دعا کیا۔ یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو ثُمَّ اسْتَخْلِفَ عُمَرُ فَوَاللَّهِ مَا عَصَيْتُهُ وفات دی۔ اس کے بعد اللہ نے حضرت ابو بکر کو وَلَا غَشَشْتُهُ ثُمَّ اسْتُخْلِفَتُ أَفَلَيْسَ خلیفہ بنایا۔ بخدا میں نے ان کی بھی نافرمانی نہیں کی اور نہ ان سے کوئی دعا کیا۔ پھر اس کے بعد لِي عَلَيْكُمْ مِثْلُ الَّذِي كَانَ لَهُمْ حضرت عمر کو خلیفہ بنایا گیا۔ بخدا میں نے ان کی بھی عَلَيَّ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا هَذِهِ نافرمانی نہیں کی اور نہ ان سے دغا کیا۔ اس کے بعد الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَبْلُغُنِي عَنْكُمْ فَأَمَّا مجھے خلیفہ بنایا گیا۔ پھر کیا تم پر میری (اطاعت) ایسی مَا ذَكَرْتَ مِنْ شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ ضروری نہیں جیسے ان کی مجھ پر تھی ؟ عبید اللہ نے فَسَتَأْخُذُ فِيْهِ إِنْ شَاءَ اللهُ بِالْحَقِّ کہا: کیوں نہیں؟ حضرت عثمان نے فرمایا: تو پھر یہ قَالَ فَجَلَدَ الْوَلِيْدَ أَرْبَعِينَ جَلْدَةً وَأَمَرَ کیا باتیں ہیں جو تمہارے متعلق مجھے پہنچتی ہیں اور وہ