صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 352
صحیح البخاری جلد ۳۵۲ - كتاب مناقب الأنصار حِيْنَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ حضرت عثمان جب نماز کے لئے نکلے، میں ان سے لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيْحَةٌ فَقَالَ ملنے کیلئے کھڑا ہوا۔میں نے ان سے کہا: مجھے آپ أَيُّهَا الْمَرْءُ أَعُوْذُ بِاللهِ مِنْكَ سے ایک کام ہے اور وہ ایک خیر خواہی ہے۔حضرت فَانْصَرَفْتُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ عثمان نے یہ سن کر کہا: بھلے آدمی میں تم سے اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔یہ سن کر میں واپس آ گیا۔جب قُلْتُ جَلَسْتُ إِلَى الْمِسْوَرِ وَإِلَى ابْنِ عَبْدِ يَغُوْثَ فَحَدَّثْتُهُمَا بِمَا میں نماز پڑھ چکا تو میں میسور اور ابن عبد یغوث کے پاس بیٹھ گیا۔میں نے انہیں بتایا جو کچھ کہ میں لِعُثْمَانَ وَقَالَ لِي فَقَالَا قَدْ قَضَيْتَ نے حضرت عثمان سے کہا اور حضرت عثمان نے جو الَّذِي كَانَ عَلَيْكَ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مجھے کہا۔ان دونوں نے کہا: جو فرض تمہارے ذمہ مَعَهُمَا إِذْ جَاءَنِي رَسُوْلُ عُثْمَانَ فَقَالَا تھا وہ تم ادا کر چکے۔ابھی میں ان کے پاس بیٹھا ہوا لِي قَدِ ابْتَلَاكَ اللهُ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى ہی تھا کہ اتنے میں حضرت عثمان کا ایچی میرے دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا نَصِيْحَتُكَ پاس آیا۔ان دونوں نے مجھے کہا: اللہ نے تمہیں الَّتِي ذَكَرْتَ آنِفًا قَالَ فَتَشَهَّدْتُ ثُمَّ آزمایا ہے۔میں چل پڑا اور حضرت عثمان کے پاس قُلْتُ إِنَّ اللهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى الله گیا۔انہوں نے پوچھا: تمہاری وہ خیر خواہی کی بات عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ کیا ہے جس کا تم نے ابھی ذکر کیا تھا؟ عبید اللہ کہتے وَكُنْتَ مِمَّنِ اسْتَجَابَ لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ تھے: میں نے کلمہ شہادت پڑھ کر کہا: دیکھو! اللہ نے محمد صل الم کو مبعوث کیا اور ان پر کتاب اتاری صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآمَنْتَ بِهِ وَهَاجَرْتَ الْهَجْرَتَيْنِ الْأَوْلَيَيْنِ اور آپ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اللہ وَصَحِبْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور اس کے رسول علی ایم کی باتوں کو قبول کیا اور اللہ پر ایمان لائے اور آپ نے پہلی دو ہجرتیں وَسَلَّمَ وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ ہیں اور رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ رہے اور فِي شَأْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَحَقِّ آپ کی راست روی کا مشاہدہ کیا۔بات یہ ہے عَلَيْكَ أَنْ تُقِيْمَ عَلَيْهِ الْحَدَّ فَقَالَ کہ لوگ ولید بن عقبہ کے معاملہ میں بہت کچھ لِي يَا ابْنَ أَخِي أَدْرَكْتَ رَسُوْلَ اللهِ کہہ چکے ہیں۔آپ کا فرض ہے کہ اس کو شرعی سزا