صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 350
صحیح البخاری جلدے ۳۵۰ - كتاب مناقب الأنصار ۳۸۷۰ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ ۳۸۷۰: عثمان بن صالح نے ہمیں بتایا کہ بکر بن حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ قَالَ حَدَّثَنِي مصر نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: جعفر جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكِ بن ربیعہ نے مجھے بتایا۔انہوں نے عراک بن عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ مالک سے، عراک نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن بْنِ مَسْعُوْدٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ عتبہ بن مسعود سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ چاند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پھٹا۔رَضِيَ عَلَى زَمَانِ رَسُوْلِ اللهِ اطرافه: ۳۶۳۸، ۳۸۶۶ ۳۸۷۱: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ۳۸۷۱ عمر بن حفص بن غیاث ) نے ہم سے حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا بیان کیا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے إِبْرَاهِيْمُ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم نے ابو معمر سے ، ابو معمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ۔نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: چاند پھٹ گیا تھا۔اطرافه : ۳۶۳۶ ۳۸۶۹، ۴۸۶۴، ۴۸۶۵ شریح: انشقائى الْقَمَرِ : اس باب کے تحت چار روایتیں ہیں۔یہ سب معنون ہیں۔جہاں تک ان کے بیانات کا اختلاف ہے تو وہ صرف لفظی ہے۔مثلاً جن روایتوں میں مکہ میں واقعہ شق القمر رونما ہونے کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ یہ ہجرت مدینہ سے قبل کا واقعہ ہے اور جن روایتوں میں منیٰ کا ذکر ہے تو اس سے مکہ مکرمہ کے اس خاص مقام کا ذکر ہے جہاں مشاہدہ کرنے والے صحابہ کرام اس نشان کے ظاہر ہونے کے وقت آنحضرت صلی اللی کم کے ساتھ تھے۔مکہ سے منیٰ کی طرف جاتے ہوئے حراء کی پہاڑی بائیں طرف ہے۔انشقاق القمر کا واقعہ جب رونما ہوا تو دیکھنے میں یوں معلوم ہوا کہ حراء دو ٹکڑوں کے درمیان ہے۔اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ سچ مچ اس کے ٹکڑے گرے اور پھر آپس میں مل گئے۔آئے دن شہب ثاقبہ اور سیاروں کے ٹوٹنے کا نظارہ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ زمین تک پہنچتے پہنچتے راکھ ہو جاتے ہیں اور دیکھنے میں بسا اوقات فریب نظر کا دخل ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی جگہ گرے ہیں۔اس قسم کے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں۔جہاں تک انشقاق القمر کے واقعہ کی نشان نمائی کا تعلق ہے تو اس میں نشان نمائی یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی و مکاشفہ اس کے ظہور کے بارے میں اطلاع قبل از وقت دی گئی تھی اور پھر اطلاع کے مطابق یہ نشان ظاہر ہوا۔چاند شق ہونے کے اسباب طبعی ہیں جو علماء طبعیات اور محققین کو بھی تسلیم ہیں۔چاند اس زمین ہی کی طرح کرہ ہے جس میں انشقاقی زلازل وغیرہ سے انفجار و انشقاق ہوتا رہا ہے۔