صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 348 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 348

صحیح البخاری جلد ۳۴۸ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ہن حبابل پیر یہودیاں وانگوں کہن مرید جو سارے دوزخ وچہ نہ چھوڑن انہاں دادے باپ ہمارے برے بھلے نوں وعظ نصیحت ہرگز اوہ نہ کرسن قصے جھگڑے دنیا باتاں نال مسیتاں بھر سن جو اونہاں پاس امانت رکھن اوہ سب لٹن کھاون قہر عذابوں ڈرن نہ ہر گز رب دے قول جھٹلاون اسی کتاب میں علامات قیامت کبری کے عنوان کے تحت صفحہ ۳۱ پر ہے: تیرھویں چن، ستیویں سورج گرہن ہوسی اس سالے اندر ماور مضان لکھیا اک روایت والے ۲ غرض اس ایک مثال سے امام بخاری کی روایات اور منقولہ قافیہ بندی کا سمجھنا آسان ہو جائے گا جس کا سلیس ترجمہ میں نے کر دیا ہے۔ہر زمانہ میں کاہنوں، جو تشیوں، منجموں، فال بینوں ، جو گیوں، رمالوں، قیافہ شناسوں اور ہرڑ پوپو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو انبیاء کی بعثت سے متعلق سابقہ پیشگوئیوں کو اپنے مذاق و سلیقہ طبیعت کے مطابق بنا سنوار کر لوگوں کو دام فریب میں لاتے اور ان پر اپنی خارق عادت قوت کا سکہ بٹھاتے اور کرشمہ سازی کا رعب جماتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کی نسبت یہ خیال پید اہو جاتا ہے کہ جنات ان کے قابو میں ہیں۔اسی طبقہ میں سے وہ شخص تھا جس کا ذکر روایت نمبر ۳۸۶۶ میں ہے اور جسے حضرت عمر نے اپنی بصیرت سے پہچانا اور بلوایا اور اس سے اس کا حال سنا اور اس نے ان سے بات نہیں چھپائی سچ سچ بیان کیا کہ وہ زمانہ جاہلیت میں قریش کا کا ہن تھا اور ان سے قافیہ بندی کا ذکر کیا۔جسے اپنی جنی کی طرف منسوب کیا۔حضرت عمرؓ نے اس کی تصدیق کی اور اسی قسم کے کا ہن اور اس کی قافیہ بندی کا ذکر سنایا جس میں ایک نبی کی بعثت کا ذکر ہے۔مذکورہ بالا لوگ بھی جن ہی سمجھے جاتے تھے، جو عام لوگوں سے الگ تھلگ رہتے اور وہ اپنی شکلوں، وضع قطع ولباس میں انوکھے رہتے تھے ، تا ان کا رعب قائم رہے۔ہندو سادھوؤں کا بھی اب تک یہی حال ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ان لوگوں کے سب طلسمات کا بھانڈا ٹوٹ پھوٹ گیا اور عوام الناس کی گردن سے ان کا جوا اتر چکا تھا۔اسی طرف اشارہ ہے۔ابلاسها وَيَأْسَهَا سے اور مُحُوقَهَا بِالْقِلَاص سے مراد یہ ہے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کی فریب کاری ذریعہ معاش نہیں رہی تو ان کو عام عربوں کی طرح کسب معاش کے لئے شتر بانی اور ساربانی کے پیشہ کی طرف رجوع کرنا پڑا۔1) احوال الآخرۃ از محمد بن بارک اللہ لکھو کے، عقبه سوم که در قیامت است و بیان علامات صغری قیامت، صفحه ۳۰،۲۹ (۲) احوال الآخرة، بيان علامات کبر کی قیامت صفحه ۳۱