صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 347
صحیح البخاری جلد ۳۴۷ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار قریش کے معزز ترین اشخاص میں سے تھے اور بنو سہم قبیلہ میں سے تھے۔ان کا نسب نامہ یہ ہے: عاص بن وائل بن باشم بن سعید بن سہم قرشی سہمی۔ہجرت سے قبل بحالت کفر ہی فوت ہوئے تھے۔حضرت عمر بنو عدی خاندان میں سے تھے۔بنو عدی اور بنو سہم کے خاندان ایک دوسرے کے حلیف تھے اور اس معاہدہ دوستی و مدد کی وجہ سے عاص بن وائل نے اپنا اخلاقی فرض جانا کہ حضرت عمررؓ کی مدد کریں۔جیسا کہ روایت نمبر ۳۸۶۴ میں صراحت ہے۔حضرت عمر سے چھیڑ چھاڑ قبیلہ بنی سہم سے لڑائی مول لینا تھا۔روایت نمبر ۳۸۶۶ کا ذکر کتاب التف شرح سورۃ الجن میں آئے گا۔یہاں صرف اس قدر بتانا کافی ہو گا کہ انبیاء کی بعثت سے ان کی آمد سے متعلق عام چرچا ہوتا ہے، جس کا ایک باعث نبی کی بعثت کے بارے میں سابقہ پیشگوئیاں ہوتی ہیں اور ان علامتوں کا ظہور ہوتا ہے جو اس کی آمد کے لئے بطور پیش خیمہ ہوتی ہیں۔یہ علامتیں کچھ تو زمین سے تعلق رکھتی ہیں اور کچھ آسمان سے۔جیسے امام مہدی کے ظہور سے متعلق طاعون اور زلازل کا آنا اور چاند و سورج کو معین تاریخوں میں گرہن لگنا۔اس تعلق میں دیکھیں مشہور رسالہ احوال الآخرۃ جس کی قافیہ بندی جو پنجابی زبان میں ہے اور ہر جگہ سرو تال کے ساتھ گائی جاتی تھی ان میں سے مندرجہ ذیل قوافی بچپن میں سننا مجھے یاد ہے اور میرے ہم عصروں کو بھی اکثر یاد ہوں گی۔یہ قافیاں احوال الآخرۃ میں اب تک موجود ہیں جو حافظ محمد بن مولوی بارک اللہ مرحوم المعروف حافظ محمد لکھو کے رحمتہ اللہ علیہ کی ہیں۔جس کے دو حصے ہیں۔ایک میں علامات صغر کی اور دوسرے حصے میں علامات کبر کی بیان ہوئی ہیں۔ان سب کا اصل مصدر وہ اقوال ہیں جو دراصل سر چشمہ نبوت سے صدور ہوئے اور پھر ان پر بہت کچھ حاشیہ آرائی ہوتی رہی۔ذیل میں بعض اشعار منقول ہیں جن میں علمائے زمانہ کی حالت کا نقشہ کھینچا گیا ہے: آپ ہوسن گمراہ بے علموں، گمراہ کرن ہزاراں بدعت شرک خلائق ،کرسی، سن انہاں استراراں زنا، فساد، شراب زیادہ ہوسی اوس زمانے تھوڑے مرد تے بہت عورتاں ہو سن وچہ جہانے علم شریعت کج نہ رہی حضرت ایہہ فر مایا سکھایا کیها یاد متر آن اساہاں فرزنداں آپ دیکھو قوم یہود نصاری بہن موجود جو ایین پڑھن تورات، انجیل تے اس پر عمل نہ مول کر یہن