صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 346 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 346

صحیح البخاری جلدے - كتاب مناقب الأنصار حَتَّى أَعْلَمَ مَا وَرَاءَ هَذَا ثُمَّ نَادَی بڑھ کر ہو۔وہ کہتا تھا: ارے بے حیا دشمن! بامراد يَا جَلِيْحٌ أَمْرٌ نَجِيْحُ رَجُلٌ فَصِيْحْ کرنے والی ایک بات ہے، ایک خوش بیان شخص ہے جولا إلهَ إِلَّا أَنْتَ کہہ رہا ہے۔یہ سنتے ہی لوگ جلدی يَقُوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَقُمْتُ فَمَا سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔میں نے کہا: میں تو ( اس جگہ سے) نہیں جانے کا جب تک کہ یہ نہ معلوم کرلوں یہ نَشِبْنَا أَنْ قِيْلَ هَذَا نَبِيٍّ۔آواز کہاں سے آئی ہے۔اس کے بعد پھر وہ پکارا : ارے بے حیاد ثمن ! با مراد کرنے والی بات ہے، ایک خوش بیان شخص ہے جو لا الہ الا اللہ کہہ رہا ہے۔یہ سن کر میں بھی کھڑا ہو گیا۔ابھی کچھ دیر نہیں گزری تھی کہ لوگ کہنے لگے کہ یہ نبی ہیں۔٣٨٦٧: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۳۸۲۷: محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ یحی حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ( بن سعيد قطان) نے ہمیں بتایا کہ اسماعیل (بن حَدَّثَنَا قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ الى خالد ) نے ہم سے بیان کیا کہ قیس (بن ابی بْنَ زَيْدٍ يَقُوْلُ لِلْقَوْمِ لَوْ رَأَيْتُنِي حازم) نے ہمیں بتایا، کہا : ) میں نے حضرت سعید مُوْثِقِي عُمَرُ عَلَى الْإِسْلَامِ أَنَا وَأُخْتُهُ بن زید سے سنا۔وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے: اے کاش ! اپنے تئیں دیکھوں کہ جب حضرت وَمَا أَسْلَمَ وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا انْقَصَّ عمر نے مجھے اور اپنی بہن کو اسلام قبول کرنے کی لِمَا صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ لَكَانَ مَحْقُوْقًا وجہ سے باندھا تھا اور وہ اس وقت مسلمان نہ تھے أَنْ يَنْقَضَ۔اطرافه: ۳۸۶۲، ۶۹۴۲ اور جو کچھ تم نے حضرت عثمان سے کیا، اگر اُحد پہاڑ اس وجہ سے ٹوٹ پڑے تو یقینا بجا ہوگا کہ وہ ٹوٹ پڑے۔تشریح: اِسْلَامُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: زیر باب پانچ روایتیں ہیں۔ان میں روایت نمبر ۳۸۶۶ خاص طور پر قابل شرح ہے۔باقی روایتوں میں حضرت عمر کے اسلام قبول کرنے سے پہلے چند لوگ جو ایمان لائے تھے۔ان پر سختی کئے جانے کا ہی ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ حضرت عمر بھی مسلمان ہونے پر سختی کا نشانہ بنتے ، اگر عاص بن وائل سہی انہیں اپنی پناہ میں لینے کا اعلان نہ کرتے۔عاص بن وائل