صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 342 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 342

صحیح البخاری جلد ۳۴۲ - كتاب مناقب الأنصار بَاب ٣٤ : إِسْلَامُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ) رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا ٣٨٦٢: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۳۸۶۲ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسماعیل بن ابی خالد) سے، اسماعیل نے قیس بن ابی حازم) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نفیل قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيْدَ بْنَ زَيْدِ بْن عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ فِي مَسْجِدِ میں نے حضرت سعید بن زید بن عمرو بن الْكُوفَةِ يَقُوْلُ وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنَّ سے کوفہ کی مسجد میں سنا۔کہتے تھے: اللہ کی قسم عُمَرَ لَمُوْثِقِي عَلَى الْإِسْلَامِ قَبْلَ أَنْ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ یہ حالت تھی کہ يُسْلِمَ عُمَرُ وَلَوْ أَنَّ أُحُدًا اَرْفَصَّ حضرت عمرؓ مجھے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے لِلَّذِي صَنَعْتُمْ بِعُثْمَانَ لَكَانَ مَحْقُوْقًا باندھا کرتے تھے پیشتر اس کے کہ حضرت عمرؓ خود مسلمان ہوئے اور جو کچھ تم نے حضرت عثمان سے کیا اگر اس وجہ سے اُحد اپنی جگہ سے ہٹ أَنْ يُرْفَضَّ۔اطرافه: ۳۸۶۷، ۶۹۴۲ - جائے تو بجا ہو گا۔تشریح : اِسْلَامُ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ الله عنه: حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے والد زید بن عمرو بن نفیل کا ذکر باب ۲۴ میں گزر چکا ہے جو حضرت عمر بن خطاب بن نفیل کے چازاد بھائی ہیں اور بہنوئی بھی تھے۔حضرت عمر کی بہن حضرت فاطمہ حضرت سعید کی بیوی تھیں۔حضرت عمر اسلام لانے سے قبل حضرت سعید پر سختی کرتے تھے اور رسیوں سے جکڑ کر انہیں اذیت دیتے اور اسلام ترک کرنے کے لئے کہتے اور اپنی بہن سے بھی ان کا رویہ سخت تھا۔مگر دونوں نے اس کی پرواہ نہیں کی اور آخر ان کی بہن حضرت فاطمہ اپنے بھائی کی ہدایت کا محرک ہوئیں۔جیسا کہ دار قطنی وغیرہ نے اپنی ایک روایت میں مفصل نقل کیا ہے (فتح الباری جزءے صفحہ ۲۲۲) اور ابن ہشام و دیگر مورخین نے یہ روایت اپنی تاریخوں میں قبول کی ہے۔(۱) امام بخاری نے ضعف اسناد کی وجہ سے اسے نظر انداز کیا ہے اور اس کی جگہ مذکورہ بالا روایت زیر باب نقل کی ہے جو مختصر ہے اور مَا قَلَّ وَدَ کی مصداق ہے۔اس تعلق میں اگلا باب بھی دیکھئے۔١) السيرة النبوية لابن هشام، اسلام عمر بن ، جزء اوّل صفحه ۳۴۳، ۳۴۴