صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 341
صحیح البخاری جلدی ۳۴۱ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا ان کو بتاتے رہو یہاں تک کہ میرے متعلق جو رَسُوْلُ اللهِ ثُمَّ قَامَ الْقَوْمُ فَضَرَبُوهُ امر الہی مقدر ہے اس کی خبر تمہیں پہنچ جائے۔ حَتَّى أَوْجَعُوهُ) وَأَتَى الْعَبَّاسُ فَأَكَبَّ حضرت ابوذر نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں مشرکوں کے درمیان فَأَكَبَّ الْعَبَّاسُ عَلَيْهِ۔ عَلَيْهِ قَالَ وَيْلَكُمْ أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ آپ کی رسالت رسالت کے متعلق چلا چلا کر اعلان کروں گا۔ أَنَّهُ مِنْ غِفَارٍ وَأَنَّ طَرِيقَ تِجَارِكُمْ یہ کہہ کر وہ نکل گئے اور مسجد میں آئے اور بلند آواز إِلَى الشَّامِ فَأَنْقَذَهُ مِنْهُمْ ثُمَّ عَادَ سے پکارا: میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی مِنَ الْغَدِ لِمِثْلِهَا فَضَرَبُوْهُ وَثَارُوا إِلَيْهِ معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کو اتنا مارا کہ زمین پر ان کو لٹا دیا۔ حضرت عباس آئے اور حضرت ابوذر کے اوپر اوندھے ہو گئے۔ انہوں نے کہا: تمہارا ستیا ناس، کیا تم نہیں جانتے ہو یہ غفار قوم کا ہے اور تمہاری تجارت کا راستہ شام کو وہیں سے ہے؟ یہ کہہ کر حضرت عباس نے حضرت ابوذر کو ان سے چھڑا لیا۔ پھر دوسرے دن حضرت ابوذر نے ویسا ہی کیا، اس پر لوگوں نے ان کو پھر مارا اور ان کے خلاف بھڑک اٹھے اور حضرت عباس ان پر اوندھے ہو گئے۔ طرفه: ۳۵۲۲ تشريح : إِسْلَامُ أَي ذَرِّ الْغَفَّارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اِن کا نام جندب ہے۔ ان کے اسلام لانے کا واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔ قبیلہ غفار ایک زبر دست قبیلہ تھا جو بنو کنانہ کی ایک شاخ تھی اور جنگجو قبیلہ تھا جو شہر حرام میں بھی لوٹ مار سے باز نہیں آتا تھا۔ جب قریش نے ان کو اعلان کلمہ شہادت پر بیٹا تو حضرت عباس نے ان کو چھڑایا اور قریش کو ڈرایا کہ اگر قبیلہ غفار کو علم ہوا کہ ان کا ایک سردار حرم کعبہ میں پیٹا گیا اور بے آبرو کیا گیا ہے تو تمہاری تجارت کو خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قریش چونکہ تجارت پیشہ قوم تھی اور زیادہ تر ان کا گزارہ بری و بحری تجارت پر تھا اس لئے وہ خطرے کو بھانپ گئے اور حضرت ابوذر کو چھوڑ دیا۔ (۱) بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی میں آضجَعُوهُ کا لفظ ہے (جلد اول صفحہ ۵۴۵) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔