صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 340 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 340

صحیح البخاری جلدی ۳۴۰ ۳- كتاب مناقب الأنصار بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ چلے گئے۔ اتنے میں حضرت علی ان کے پاس سے يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ گزرے۔ انہوں نے کہا: کیا ابھی تک اس شخص کو لَا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ اپنے ٹھکانے کا بھی پت ٹھکانے کا بھی پتہ نہیں چلا۔ یہ کہہ کر حضرت علی نے حضرت ابوذر کو اٹھایا اور ان کو اپنے ساتھ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ لے گئے۔ ان دونوں میں سے کوئی کا ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی فَعَادَ عَلِيٌّ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَأَقَامَ مَعَهُ سے کسی بات کے متعلق بھی نہ پوچھتا تھا یہاں تک کہ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ جب تیسرا دن ہوا تو پھر حضرت علیؓ نے اسی طرح قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيْثَاقًا کیا ان کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور حضرت لَمُرْشِدَنَّنِي فَعَلْتُ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ ابو ذر ان کے ساتھ رہے۔ حضرت علی نے کہا کہ کیا تم مجھے یہ نہیں بتاؤ گے کہ کیا بات تمہیں یہاں لائی قَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُوْلُ اللَّهِ ہے۔ حضرت ابوذر نے کہا: اگر تم مجھ سے پکا عہد کرو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ کہ تم میری صحیح صحیح راہنمائی کرو گے تو میں تمہیں ریم فَاتْبَعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ بتلائے دیتا ہوں۔ چنانچہ حضرت علی نے ان کی بات عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِّي أُرِيقُ الْمَاءَ منظور کر لی۔ تب حضرت ابوذر نے ان کو بتایا۔ حضرت فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ علیؓ نے کہا: جو خبر جو خبر تمہیں پہنچی ہے وہ سچی ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں صلی علیہ کم۔ صلی ال میں جب صبح ہو تو میرے پیچھے صة القديم میرم - مَدْخَلِي فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوْهُ حَتَّى و لینا۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات دیکھی جس سے اسے دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھے تمہارے متعلق خوف ہوگا تو میں ٹھہر جاؤں گا وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ جیسے کہ میں پیشاب کرنے لگا ہوں اور اگر میں چلتا قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ رہوں تو تم میرے پیچھے پیچھے چلے آنا اور جہاں میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى داخل ہوں وہاں داخل ہو جانا۔ چنانچہ انہوں نے قَوْمِكَ فَأَخْبِرُهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ حضرت علی نبی صلی علی رام کے پاس پہنچ گئے اور وہ بھی ابوذر نے قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُحَنَّ ان کے ساتھ اندر چلے گئے اور حضرت ابو بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى آپ کی باتیں سنیں اور وہیں مسلمان ہو گئے۔ نبی صلی الی یوم أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ نے ان سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس واپس جاؤ اور