صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 340
صحیح البخاری جلدے ۳۴۰ - كتاب مناقب الأنصار بِهِ عَلِيٌّ فَقَالَ أَمَا نَالَ لِلرَّجُلِ أَنْ چلے گئے۔اتنے میں حضرت علی ان کے پاس سے يَعْلَمَ مَنْزِلَهُ فَأَقَامَهُ فَذَهَبَ بِهِ مَعَهُ گُزرے۔انہوں نے کہا: کیا ابھی تک اس شخص کو اپنے ٹھکانے کا بھی پتہ نہیں چلا۔یہ کہہ کر حضرت لا يَسْأَلُ وَاحِدٌ مِّنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ علی نے حضرت ابوذر کو اٹھایا اور ان کو اپنے ساتھ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الثَّالِثِ لے گئے۔ان دونوں میں سے کوئی بھی اپنے ساتھی فَعَادَ عَلِيٌّ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ فَأَقَامَ مَعَهُ سے کسی بات کے متعلق بھی نہ پوچھتا تھا یہاں تک کہ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُحَدِّثُنِي مَا الَّذِي أَقْدَمَكَ جب تیسرا دن ہوا تو پھر حضرت علی نے اسی طرح قَالَ إِنْ أَعْطَيْتَنِي عَهْدًا وَمِيْثَاقًا کیا ان کو اٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے اور حضرت لَتُرْشِدَنَّنِي فَعَلْتُ فَفَعَلَ فَأَخْبَرَهُ ابوذر ان کے ساتھ رہے۔حضرت علی نے کہا کہ کیا تم مجھے یہ نہیں بتاؤ گے کہ کیا بات تمہیں یہاں لائی قَالَ فَإِنَّهُ حَقٌّ وَهُوَ رَسُوْلُ اللَّهِ ہے۔حضرت ابوذر نے کہا: اگر تم مجھ سے پکا عہد کرو۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَصْبَحْتَ کہ تم میری صحیح صحیح راہنمائی کرو گے تو میں تمہیں فَاتَّبَعْنِي فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ شَيْئًا أَخَافُ بتلائے دیتا ہوں۔چنانچہ حضرت علی نے ان کی بات عَلَيْكَ قُمْتُ كَأَنِي أُرِيقُ الْمَاءَ منظور کر لی۔تب حضرت ابو ذر نے ان کو بتایا حضرت فَإِنْ مَضَيْتُ فَاتْبَعْنِي حَتَّى تَدْخُلَ علی نے کہا: جو خبر تمہیں پہنچی ہے وہ بچی ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں صلی اللہ ہے۔جب صبح ہو تو میرے پیچھے مَدْحَلِي فَفَعَلَ فَانْطَلَقَ يَقْفُوْهُ حَتَّى ہو لینا۔اگر میں نے کوئی ایسی بات دیکھی جس سے دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھے تمہارے متعلق خوف ہوگا تو میں ٹھہر جاؤں گا وَسَلَّمَ وَدَخَلَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ جیسے کہ میں پیشاب کرنے لگا ہوں اور اگر میں چلتا قَوْلِهِ وَأَسْلَمَ مَكَانَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ رہوں تو تم میرے پیچھے پیچھے چلے آنا اور جہاں میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى داخل ہوں وہاں داخل ہو جانا۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے پیچھے چلتے رہے یہاں تک کہ قَوْمِكَ فَأَخْبِرْهُمْ حَتَّى يَأْتِيَكَ أَمْرِي حضرت علی بنی سی تی نیم کے پاس پہنچ گئے اور وہ بھی حضرت قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَصْرُحَنَّ ان کے ساتھ اندر چلے گئے اور حضرت ابوذر نے بِهَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّی آپ کی باتیں سنیں اور وہیں مسلمان ہوگئے بنی نئی الیکم أَتَى الْمَسْجِدَ فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ نے ان سے فرمایا: اپنی قوم کے پاس واپس جاؤ اور