صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 339 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 339

صحیح البخاری جلدی ۳۳۹ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار بَلَغَ أَبَا ذَرٍ مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ انہوں نے کہا: جب حضرت ابوذر کو نبی کریم صلی العلیم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَخِيْهِ ارْكَبْ إِلَى کی بعثت کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنے بھائی (انیس) سے کہا: اس وادی میں سوار ہو کر جاؤ اور میرے هَذَا الْوَادِي فَاعْلَمْ لِي عِلْمَ هَذَا لئے اس شخص کے متعلق پتہ لو جو یہ دعویٰ کرتا ہے الرَّجُلِ الَّذِي يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ يَأْتِيهِ کہ وہ نبی ہے۔ اس کے پاس آسمان کی خبریں آتی الْخَبَرُ مِنَ السَّمَاءِ وَاسْمَعْ مِنْ ہیں۔ اس کی باتیں سن کر میرے پاس آؤ۔ ان کا بھائی قَوْلِهِ ثُمَّ ائْتِنِي فَانْطَلَقَ الْأَخُ حَتَّى روانہ ہو گیا۔ وادی مکہ میں پہنچا اور آپ کی باتیں سنیں قَدِمَهُ وَسَمِعَ مِنْ قَوْلِهِ ثُمَّ رَجَعَ اور پھر حضرت ابوذر کے پاس واپس آیا اور کہا کہ إِلَى أَبِي ذَرٍ فَقَالَ لَهُ رَأَيْتُهُ يَأْمُرُ میں نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ عمدہ اخر اخلاق کا حکم دیتے ہیں اور ایسا کلام سناتے ہیں جو شاعری ہرگز بِمَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَكَلَامًا مَا هُوَ نہیں۔ حضرت ابوذر نے کہا: میری خواہش تم نے بِالشَّعْرِ فَقَالَ مَا شَفَيْتَنِي مِمَّا اچھی طرح پوری نہیں کی جسے میں چاہتا تھا۔ چنانچہ أَرَدْتُ فَتَزَوَّدَ وَحَمَلَ شَنَّةً لَهُ پھر انہوں نے خود زادِ راہ لیا اور اپنی ایک پرانی فِيهَا مَاءً حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَأَتَى مشک لے لی جس میں پانی تھا اور مکہ میں پہنچ کر مسجد الْمَسْجِدَ فَالْتَمَسَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ میں آئے اور نبی صلی علیم کو تلاش کیا۔ اور حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَعْرِفُهُ وَكَرِهَ ابوذر آپ کو نہیں پہچانتے تھے اور ناپسند کیا کہ کسی سے آپ کے متعلق پوچھیں۔ یہاں تک کہ رات کا أَنْ يَسْأَلَ عَنْهُ حَتَّى أَدْرَكَهُ بَعْضُ کچھ حصہ گزر گیا تو حضرت علی نے ان کو دیکھا اور اللَّيْلِ فَرَآهُ عَلِيٌّ فَعَرَفَ أَنَّهُ غَرِيبٌ انہوں نے پہچان لیا کہ یہ اجنبی ہے۔ جب حضرت فَلَمَّا رَآهُ تَبِعَهُ فَلَمْ يَسْأَلْ وَاحِدٌ ابوذر نے حضرت علی کو دیکھا تو وہ ان کے پیچھے مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى ہو لئے اور ان دونوں میں سے کسی نے بھی اپنے ساتھی سے کسی بات کے متعلق نہ پوچھا یہاں تک کہ أَصْبَحَ ثُمَّ احْتَمَلَ قِرْبَتَهُ وَزَادَهُ صبح ہوگئی۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوذر ابوذر اپنی مشک إِلَى الْمَسْجِدِ وَظَلَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ اور اپنا زاد راہ اٹھا کر مسجد کو چلے گئے اور وہ سارا دن وَلَا يَرَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہیں رہے اور نبی صلی اللہ ہم نے بھی ان کو نہیں دیکھا۔ حَتَّى أَمْسَى فَعَادَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَمَرَّ جب شام ہوئی حضرت ابو ذر اپنے لیٹنے کی جگہ میں صا القرية