صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 24
صحیح البخاری جلد سوم ۴ ۶۱ - كتاب المناقب ہے۔یہ قابل فخر کارنامے ابن مالک اور اسماعیل کے نواسوں کے ہیں جنہیں زوال نہیں۔زمانہ جاہلیت کے ایک شاعر کا یہ قول ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عدنانی قحطانی قبائل کے درمیان مصاہرت (دامادی کے رشتے) تھے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے جد امجد کی طرف بطور فخر انتساب کرتے تھے۔( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۵۹) باب۔:٣٥٠٨ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا :۳۵۰۸ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَارِثِ عَنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عبد الوارث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حسین ( بن واقد ) سے، حسین نے عبد اللہ بن بریدہ سے عَبْدِ اللهِ بْن بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ روایت کی۔انہوں نے کہا: ) یحی بن یعمر نے يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيَّ حَدَّثَهُ مجھ سے بیان کیا کہ ابوالاسود دیلی نے انہیں بتایا عَنْ أَبِي ذَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيْهِ وَهُوَ فرماتے تھے: جو شخص بھی اپنے باپ کے سوا کسی يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ بِاللَّهِ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا اور کی طرف منسوب ہوا جبکہ وہ جانتا ہے تو اس نے یقینا اللہ کا کفر کیا اور جو اس قوم کی طرف لَيْسَ لَهُ فِيْهِمْ نَسَبٌ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ منسوب ہوا کہ جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو پھر چاہیے کہ وہ آگ میں اپنا ٹھکانہ بنانے کی مِنَ النَّارِ۔تیاری کرے۔٣٥٠٩ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ :۳۵۰۹ ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَرِيْزٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ حریز نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عبد الواحد بْنُ عَبْدِ اللهِ النَّصْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ بن عبد الله نصری نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ نے حضرت واثلہ بن اسقع سے سنا۔وہ کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی الْفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْر أَبِيْهِ نہایت ہی بڑا بہتان ہے کہ آدمی اپنے باپ کے