صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 23
صحیح البخاری جلد ۴۳ ۶۱ - كتاب المناقب نے اس بارہ میں مختلف اقوال ذکر کرنے کے بعد ترجیح ابن اسحاق کے قول کو دی ہے بلکہ ان کے نزدیک ان سے بڑھ کر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا وہ قول قابل ترجیح ہے جو حاکم (1) اور طبرانی (۴) نے نقل کیا ہے : قَالَتْ عَدْنَان هُوَ ابْنُ أَذِ بْنِ زَنَدِ بْنِ بَرَى بْنِ أَعْرَاق القری جو حضرت اسماعیل ہیں۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا قول موافق ہے اس قول کے جو ابراہیم بن مندر کا قول ہے۔یعنی هُوَ عَدْنَانُ بْنُ أَدِ بْنِ أَدَدِ بْنِ الْهُمَيْسِ بْن نَابِتِ بنِ إِسْماعيل عبد اللہ بن عمران مدنی نے آور اور ہمیع کے درمیان ایک زید نام کا بھی ذکر کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۶۵۹،۶۵۸) عدنان سے نزار اور نزار سے وہ تمام بڑے بڑے قبائل مضر ، ربیعہ ، غطفان، مزینہ ، لحیان، اشجع اور اس وغیرہ منسوب ہوتے ہیں جو بادیہ عرب اور اس کے ملحقہ علاقہ جات پر چھائے ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلم بن اقصیٰ بن حارثہ سے بنی اسماعیل کا خطاب فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ تمام قحطانی قبائل باپ دادا کے اعتبار سے بنو اسماعیل ہوں۔بلکہ ہو سکتا ہے کہ ماؤں کے اعتبار سے بنو اسماعیل ہوں کیونکہ قحطانی اور عدنانی قبائل کے درمیان دامادی کے تعلقات بھی تھے جیسا کہ ہمدانی (نسابہ ) عالم انساب نے ان کے باہمی شادی بیاہ سے ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط کا ذکر کیا ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس مصاہرت کی رو سے ان خزاعی تیر اندازوں کو بنی اسماعیل کہا گیا ہو۔حضرت حسان بن ثابت کے دادا ابن منذر نے بھی اہل یمن کا ذکر بنت اسماعیل کی اولاد سے کیا ہے۔وہ کہتے ہیں: وَرِثْنَا مِنَ الْبَهْلُولِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ وَحَارِفَةَ الْغَطْرِيفِ مَجْدًا مُؤَثَلًا مَاثِرَ مِنْ آلِ ابنِ بِنْتِ ابْنِ مَالِكٍ وَبِئْتِ ابْنِ إِسْمَاعِيلَ مَا إِن تَحَوَّلَا (فتح الباری جزء۶ حاشیه صفحه ۶۵۹) قبیلہ اسلم، عمرو بن عامر کی نسل سے ہے جس کا شجرہ نسب قبیلہ کہلان سے ملتا ہے۔کہلان، سبا سے اور یہ يشجب بن يعرب بن قحطان سے۔امام ابن حجر نے ابن اسحاق کے قول کا جو حوالہ دیا ہے، اس کی رو سے یہ نسب نامہ ہے: عدنان بن ادد بن يشجب بن يعرب بن قندريا يشجب بن ثابت بن اسماعیل۔اس فرق سے کوئی اثر نہیں پڑتا، اگر باہمی مصاہرت سے متعلق نظریہ تسلیم کیا جائے جو درست معلوم ہوتا ہے۔مذکورہ بالا اشعار کا ترجمہ یہ ہے: ہم نے عمرو بن عامر سے بڑائی ورثہ میں حاصل کی ہے جو ( بہلول ) جامع الصفات سر دار تھا اور حارثہ سے بھی جو خوبصورت سخی جو ان تھا۔ایسی بڑائی جو پائیدار ہے اور قدیم سے ورثہ میں ملی I (المستدرك على الصحيحين، كتاب التفسير ، تفسير سورة ق ، جزء دوم صفحه ۵۰۴ (المعجم الصغیر للطبرانی، حرف المیم ، من اسمه محمد بن سحنوية ، جزء ۲ صفحه ۱۵۱ )