صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 337
صحیح البخاری جلد ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار ابْغِنِي أَحْجَارًا أَسْتَنْفِضْ بِهَا وَلَا میں ابوہریرہ۔آپ نے فرمایا کہ میرے لئے چند تَأْتِنِي بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْنَةٍ فَأَتَيْتُهُ پتھر ڈھونڈ لاؤ، جن سے میں استنجا کروں۔میرے بِأَحْجَارٍ أَحْمِلُهَا فِي طَرَفِ تَوْبِي لئے ہڈی نہ لانا اور نہ ہی لید۔چنانچہ میں آپ کے حَتَّى وَضَعْتُ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ پاس اپنے کپڑے کے کنارے میں چند پتھر اٹھا لایا حَتَّى إِذَا فَرَغَ مَشَيْتُ مَعَهُ فَقُلْتُ اور آپ کے پاس رکھ دیئے اور پھر میں ایک طرف ا بَالُ الْعَظْمِ وَالرَّوْثَةِ قَالَ هُمَا مِنْ ہٹ گیا۔یہاں تک کہ جب آپ فارغ ہوئے تو میں طَعَامِ الْجِنِّ وَإِنَّهُ أَتَانِي وَفَدُ جِن آپ کے پاس آیا اور میں نے پوچھا: ہڈی اور لید میں نَصِيْبِيْنَ وَنِعْمَ الْجِنُّ فَسَأَلُونِي الزَّادَ کیا بات ہے؟ ( کہ آپ نے ان کے لانے سے منع فَدَعَوْتُ اللَّهَ لَهُمْ أَنْ لَّا يَمُرُّوا بِعَظْم فرمایا ہے) آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں جنوں کی وَلَا بِرَوْثَةٍ إِلَّا وَجَدُوْا عَلَيْهَا طُعْمًا۔خوراک ہیں اور میرے پاس نصیبین کے جنوں کے مَا طرفه: ۱۵۵ تشریح: نمائندے آئے تھے وہ اچھے جن تھے۔انہوں نے مجھ سے زادِ راہ مانگا اور میں نے ان کے لئے اللہ سے یہ دعا کی کہ وہ جس بڑی یا گوبر کے پاس سے بھی گزریں وہ ضرور اس میں اپنی خوراک پائیں۔ذِكْرُ الجِنِّ : کتاب بدء الخلق باب ۱۲ میں امام بخاری نے آیت يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ کا حوالہ دے کر اس طرف اشارہ کیا تھا کہ انسانوں کے دو طبقات ہیں: (۱) جن ) (۲) انس۔قرآن مجید میں اِنس کے مقابل پر جہاں جہاں لفظ جن استعمال ہوا ہے تو اس سے مراد غیر متمدن اقوام اور جابر لوگ ہیں۔دونوں قسم کے لوگوں میں سے رسول آتے رہے تا اُن پر اتمام حجت ہو اور وہ ہدایت پائیں۔تفصیل کے لئے کتاب بدء الخلق شرح باب ۱۲ نیز اس تعلق میں کتاب الصلوۃ باب ۷۵ روایت نمبر ۴۲۶۱ دیکھئے۔روایت زیر باب میں جن سے مراد وہ مخلوق ہے جو نظروں سے پوشیدہ ہے اور اس میں حشرات الارض بھی شامل ہیں، جن کی خوراک لید اور گوبر اور ہڈیاں ہیں۔خالق کائنات اور رب العالمین کی ربوبیت سب پر حاوی وساری ہے۔قانون توالد و تناسل اور احیاء و اماتت سے مشیت و تقدیر الہی ہر شئے کے لئے جس میں جان ہے، یکساں کار فرما ہے۔حتی کہ جراثیم بھی اس سے مستلخی نہیں ہیں اور یہ امر خالق کون و مکان کی وحدانیت و یکتائی پر دلالت کرتا ہے جس کی صحیح صحیح ترجمانی کرنے کی غرض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت رسول رب العالمین مبعوث ہوئے ہیں اور آپ کی شفقت