صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 335 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 335

صحیح البخاری جلد ۳۳۵ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار شارع کی پیشگوئی سے ناواقف نہیں تھے کہ وہ بنو اسماعیل (عربوں) میں پیدا ہونا ہے۔اس پیشگوئی کے ظہور کی شہرت اور اس کا خاص و عام میں چر چا تھا، اس لئے آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سن کر فوراً ایمان لے آئے۔بَاب :۳۱: إِسْلَامُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا ٣٨٥٨: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۳۸۵۸: مجھ سے اسحاق ( بن ابراہیم) نے بیان أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ سَمِعْتُ کیا: ہمیں ابو اسامہ نے خبر دی کہ ہاشم ( بن ہاشم) سَعِيْدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ سَمِعْتُ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے أَبَا إِسْحَاقَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَاص سعيد بن مسیب سے سنا۔انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابو اسحاق سعد بن ابی وقاص کو کہتے سنا۔کوئی اسلام نہیں لایا مگر اسی دن جس دن میں مسلمان ہوا اور مسلمان ہونے کے بعد سات الْيَوْمِ يَقُوْلُ مَا أَسْلَمَ أَحَدٌ إِلَّا فِي الَّذِي أَسْلَمْتُ فِيْهِ وَلَقَدْ مَكُنْتُ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَإِنِّي لَقُلُثُ الْإِسْلَامِ۔دن مجھ پر ایسے گزرے کہ میں کل مسلمانوں کا اطرافة: ۳۷۲۶، ۳۷۲۷۔تیسرا حصہ تھا۔تشریح: اِسْلَامُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اس تعلق میں دیکھئے باب ۱۵ کتاب فضائل اصحاب النبی، مناقب سعد بن ابی وقاص۔بنو زہرہ کے خاندان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ تھیں۔عربی میں ماں کے اقرباء اخوال کہلاتے ہیں۔جس کی وجہ سے عنوان باب (۱۵) میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ابو وقاص کا نام مالک بن وہیب ہے۔حضرت سعد کی کنیت ابو اسحاق تھی۔ان کا نسب نامہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کلاب بن مرہ سے مل جاتا ہے۔وہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ۔حضرت سعد کی والدہ کا نام حمنہ بنت سفیان بن امیہ بن عبد شمس) تھا یہ مسلمان نہیں ہوئیں۔حضرت سعد رضی اللہ عنہ عقیق مقام میں ۵۵ھ میں فوت ہوئے اور تقریبا اسی سال عمر پائی۔اس باب میں ابتدائی زمانے کا ذکر ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر سب سے پہلے حضرت ابو بکڑ نے لبیک کہا اور پھر حضرت سعد بن ابی وقاص نے اور اس وقت حضرت سعد تین قبول کرنے والوں میں سے تیسرے تھے۔یعنی حضرت خدیجہ اور حضرت ابو بکر کے بعد۔حضرت سعد نے جہاد میں جو اعلیٰ نمونہ دکھایا اس کا ذکر کتاب المغازی باب ۱۸ میں آتا ہے۔