صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 334 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 334

صحیح البخاری جلد ۳۳۴ - كتاب مناقب الأنصار بَيَانٍ عَنْ وَبَرَةَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ سے بیان نے وبرہ سے ، وہرہ نے ہمام بن حارث قَالَ قَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَأَيْتُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمار بن رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یا سرنے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وَمَا مَعَهُ إِلَّا خَمْسَةُ أَعْبُدِ وَامْرَأَتَانِ اس وقت دیکھا جبکہ آپ کے ساتھ کوئی نہ تھا۔صرف پانچ غلام، دو عورتیں اور حضرت ابو بکر وَأَبُو بَكْرٍ۔طرفة: ۳۶۶۰۔( آپ پر ایمان لائے تھے۔) تشريح: إسْلَامُ أَبِي بَكْرِ الصَّدِيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اس باب کے تعلق میں دیکھئے کتاب فضائل اصحاب النبی ، باب ۲ تا ۵۔حضرت عمار بن یاسر غلام تھے اور سابقین اولین میں سے ہیں۔حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی حبشی غلام تھے۔حضرت ابو بکر نے انہیں دکھوں سے نجات دلانے کی غرض سے خریدا اور آزاد کیا۔عبد جمع عبید کی ہے بمعنی غلام۔پانچ غلام جن کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے ایک خود حضرت عمار ہیں ، دوسرے ان کے والد حضرت یاسر، تیسرے حضرت بلال، چوتھے حضرت خباب بن ارت اور پانچویں حضرت زید بن حارثہ اور دو عورتوں سے مراد حضرت خدیجہ اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہما ہیں۔حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ ان کی اس گواہی کا تعلق اس ابتدائی زمانے سے ہے کہ جب باقی تمام لوگوں میں سے حضرت ابو بکر سب سے پہلے ایمان لائے۔دوسرے یہ کہ حضرت عمار بن یاسر بھی ابتدائی مومنین میں سے ہیں۔سابقہ روایت حضرت عمرو بن العاص ( نمبر ۳۸۵۶) کا تعلق بھی اس ابتدائی زمانہ سے ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سوائے حضرت ابو بکر کے بے رفیق و مددگار تھے۔صرف حضرت ابو بکر آپ کو عقبہ بن ابی معیط سے چھڑانے کے لئے آگے بڑھے۔اس لئے صحیح ترتیب میں باب ۲۹ مقدم کیا گیا ہے باب ۳۰ پر اور اس بارے میں امام ابن حجر کی جرح مبنی بر صحت نہیں۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۲۱۴) ابن اسحاق کی روایت اس بارے میں صحیح ہے کہ حضرت ابو بکر نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بعض خارق عادت امور دیکھے تھے اور انہیں آپ کی نسبت توقعات تھیں۔(فتح الباری جزء ۷ صفحہ ۲۱۴) اسی لئے جب ایک تجارتی سفر سے واپسی پر انہیں بتایا گیا کہ (نعوذ باللہ) آپ پاگل ہو گئے ہیں۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ آسمان سے ان پر فرشتے اُترتے ہیں اور ان سے ہم کلام ہوتے ہیں تو حضرت ابو بکر یہ سنتے ہی آپ کے مکان پر آئے اور آپؐ سے پوچھا کہ کیا سچ سچ آپ نے نبوت ورسالت کا دعویٰ کیا ہے۔آپ نے انہیں سمجھانا چاہا مگر حضرت ابو بکر نے کہا کہ آپ صرف ہاں یا نہ میں مجھے جواب دیں۔تو آپ نے فرمایا: ہاں۔حضرت ابو بکر نے فوراً تصدیق کی۔حضرت ابو بکر مثیل موسیٰ نبی