صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 333
صحیح البخاری جلدے ٣٣٣ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار تشريح: مَا لَقِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَكَّةَ : اس باب کے تحت پانچ روایتیں ہیں۔جن میں اختصار سے بطور نمونہ چند تکلیفوں کا ذکر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو مشرکین کی طرف سے دی گئیں۔اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کے ساتھ مقاطعہ کا ذکر نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آپ کو اپنے چچا ابو طالب کے ساتھ شعب ابی طالب میں الگ تھلگ رہنا پڑا اور نہ ہجرت حبشہ کا ذکر ہے جس میں نجاشی شاہ حبشہ نے صحابہ کرام کو اپنے ہاں پناہ دی اور نہ ہی حضرت زبیر بن العوام کو چٹائی میں لپیٹ کر ان کے ناک میں دھواں دینے ، حضرت عثمان کو رسیوں میں جکڑنے اور نہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو صحن کعبہ میں مار پیٹ کرنے اور حضرت ابو ذر غفاری کو نڈھال کئے جانے کا ذکر ہے۔مسلمانوں کو جو لرزہ خیز اذیتیں دی گئیں وہ قابل شرم واقعات ہیں۔لبینہ اور زنیرہ، صہیب بن سنان رومی، خباب بن ارت ، عمار اور ان کے والد یا سر اور ان کی والدہ سمیہؓ کی داستانیں روح فرسا ہیں۔آخر الذکر کو اُن کے اندام نہانی میں نیزہ مار کر شہید کر دیا گیا۔غرض ان حوالوں سے پتہ لگ سکتا ہے کہ باب ۲۹ کی روایات میں غایت درجہ اختصار ہے۔آپ کی اور صحابہ کرام کی تکالیف کا سلسلہ لمبا اور کئی سالوں تک ممتد ہے اور آپ نے غیر معمولی صبر و تحمل کا نمونہ دکھایا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کو صبر کی تلقین کی۔روایت نمبر ۳۸۵۴ میں آپ کی جس دعا کا ذکر ہے اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ آپ جیسے اولو العزم صابر و متحمل مزاج کا بددعا کے لئے مضطر ہونا مظالم کی انتہائی شدت پر دلالت کرتا ہے۔یہ دعا بلحاظ دنیاوی مدد انتہائی بے کسی و بے چارگی کی علامت ہے۔خصوصاً اس لئے کہ آپ کے متعلق ثابت ہے کہ صبر و شکیب میں آپ پیکر کوہ تھے۔امام بخاری نے یہی امر ذہن نشین کرانے کی غرض سے مذکورہ بالا روایت کا ذکر کیا ہے۔روایت نمبر ۳۸۵۲ میں الفاظ لَيُتِمَّنَ الله هَذَا الْأَمْرَ میں دعوت اسلام کے پایہ تکمیل کو پہنچنے کی زبر دست پیشگوئی ہے کیونکہ ایک طرف انتہائی مصائب اور حوصلہ شکن حالات پھر دوسری طرف ان کی موجودگی میں آپ کا اپنی کامیابی کے بارے میں کامل یقین۔اس یقین کی عظمت کا علم دونوں کے موازنہ سے بخوبی ہو سکتا ہے۔بَاب ٣٠ إِسْلَامُ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسلام قبول کرنا ٣٨٥٧: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ ۳۸۵۷: عبد اللہ بن حماد آملی نے مجھے بتایا، کہا: الْآمُلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يحي بن معین نے مجھ سے بیان کیا کہ اسماعیل حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُجَالِدٍ عَنْ بن مجالد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بیان (احمسی)