صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 331
صحیح البخاری جلد الْآيَتَيْنِ مَا أَمْرُهُمَا: ٣٣١ - كتاب مناقب الأنصار پوچھو کہ ان کا کیا مطلب ہے ؟ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ (1) اس نفس کو مت قتل کرو جس کو اللہ نے معزز (الأنعام: ١٥٢) (بنی اسرائیل: (٣٤) قرار دیا ہے۔وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا (النساء: ٩٤) (۲) جو کسی مومن کو عمد قتل کرے گا۔فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسِ فَقَالَ لَمَّا چنانچہ میں نے حضرت ابن عباس سے پوچھا۔انہوں أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ (٦٩) نے کہا: جب وہ آیت جو سورۃ الفرقان میں ہے، قَالَ مُشْرِكُوْ أَهْلِ مَكَّةَ فَقَدْ قَتَلْنَا نازل ہوئی ( یعنی رحمن کے بندے۔وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَدَعَوْنَا اور کسی ایسی جان کو جسے اللہ نے حرمت بخشی ہو ناحق مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَقَدْ أَتَيْنَا قُتل نہیں کرتے اور زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللهُ: اِلَّا مَنْ تَابَ کرے گا، گناہ کی سزا پائے گا) مکہ کے مشرک لوگ وَأمَنَ (الفرقان: ۷۱) الْآيَةَ فَهَذِهِ کہنے لگے : ہم نے تو اس نفس کو بھی مارا ہے جس کو لأُولَئِكَ وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ (٩٤) اللہ نے قابل عزت قرار دیا ہے اور اللہ کے ساتھ اور معبود بھی پکارتے رہے اور ہم نے بدکاریاں بھی الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الْإِسْلَامَ وَشَرَائِعَهُ کیں۔(تو ہمیں ایمان لانے سے کیا فائدہ؟) اس ثُمَّ قَتَلَ فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ۔فَذَكَرْتُهُ پر اللہ نے یہ وحی نازل کی: سوائے اس کے جو توبہ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ إِلَّا مَنْ نَدِمَ۔کرے اور ایمان لائے تو یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے لئے ہے اور وہ آیت جو سورۃ النساء میں ہے، اس سے وہ شخص مراد ہے کہ جس نے اسلام اور اس کے شرعی احکام کو سمجھ لیا اور پھر قتل کیا تو اس کی سزا جہنم ہوگی۔(حضرت عبد الرحمن بن ابری نے کہا :) میں نے حضرت ابن عباس کا یہ قول مجاہد سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: (دوسری آیت میں بھی یہی استثناء ہے یعنی ) سوائے اس کے جو پشیمان ہو۔۔۔اطرافه ۴۵۹۰، ۴۷۶۲، ۴۷۶۳، ۴۷۶۴، ۴۷۶۵، ۴۷۶۶