صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 328
صحیح البخاری جلدے ۳۲۸ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار باب ہذا کی روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا عرصہ تئیس سال بتایا گیا ہے۔جب آپ بذریعہ وجی مامور ہوئے تو اس وقت آپ کی عمر چالیس سال اور چھ ماہ تھی۔مادر بیع الاول میں آپ کی پیدائش بتائی جاتی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۲۰۷) باب ۲۹ مَا لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ بِمَكَّةَ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مشرکین سے جو تکالیف مکہ میں اُٹھائیں ٣٨٥٢ : حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۳۸۵۲ (عبد اللہ بن زبیر کی) حمیدی نے ہم سُفْيَانُ حَدَّثَنَا بَيَانٌ وَإِسْمَاعِيلُ سے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہم سے قَالَا سَمِعْنَا قَيْسًا يَقُولُ سَمِعْتُ کہا: بیان (بن بشر ) اور اسماعیل بن ابی خالد ) حَبَّابًا يَقُوْلُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله نے ہمیں بتایا۔ان دونوں نے کہا: ہم نے قیس سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت خباب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً ( بن ارث) سے سنا۔کہتے تھے: میں نبی کریم وَهُوَ فِي ظِلِ الْكَعْبَةِ وَقَدْ لَقِيْنَا صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ کعبہ کے مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ شِدَّةً فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ سایہ میں ایک چادر پر تکیہ لگائے بیٹھے تھے اور اللَّهِ أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا فَقَعَدَ وَهُوَ اس زمانہ میں ہم نے مشرکین سے بہت تکلیف مُحْمَرٌ وَجْهُهُ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ مَنْ اُٹھائی تھی۔میں نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا آپ اللہ قَبْلَكُمْ لَيُمْشَطُ بِمِشَاطِ الْحَدِيْدِ مَا سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپ یہ سن کر بیٹھ گئے۔آپ کا چہرہ سرخ تھا۔آپؐ نے فرمایا: دُوْنَ عِظَامِهِ مِنْ لَحْمٍ أَوْ عَصَبٍ مَّا تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے جن کے گوشت يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِيْنِهِ وَيُوْضَعُ اور پٹھوں میں ہڈیوں تک لوہے کی کنگھیاں چلائی الْمِيَّشَارُ عَلَى مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَيُشَقُّ جاتی تھیں۔تب بھی یہ بات ان کو ان کے دین بِاثْنَيْنِ مَا يَصْرِفُهُ ذَلِكَ عَنْ دِینِهِ سے نہ پھیرتی اور ان کے سر کی مانگ پر آری رکھ وَلَيُتِمَّنَ اللهُ هَذَا الْأَمْرَ حَتَّى يَسِيْرَ کر دو ٹکڑوں میں چیر دیئے جاتے تب بھی یہ بات الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَ مَوْتَ ان کو ان کے دین سے نہ پھیرتی۔اللہ ضرور بالضرور