صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 327 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 327

صحیح البخاری جلدی ۳۲۷ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار تشریح : مَبْعَثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اس باب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آپ کے نسب نامے کا ذکر ہے۔جو سلسلہ وار عدنان کے ساتھ ملتا ہے۔قبائل عدنان، (1) معذ، ربیعہ، مضر، خزیمہ اور اسد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ملت سے وابستہ ہونے کے مدعی تھے۔امام بخاری نے عدنان سے سلسلہ نسب ملانے پر اکتفا کیا ہے۔مگر اپنی تاریخ میں اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام تک پہنچایا ہے۔طبقات ابن سعد میں حضرت ابن عباس سے ایک روایت نقل کی گئی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کبھی اپنا نسب نامہ بیان کیا ہے تو معد بن عدنان (۲) تک ہی ذکر کیا ہے۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۲۰۷) جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کے بعد کا سلسلہ انتساب معروف و مشہور تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئی کا ذکر مفصل گزر چکا ہے۔جس میں انہوں نے بنو اسرائیل کے بھائیوں بنو اسماعیل میں سے اپنے جیسے شرعی نبی کی بعثت سے متعلق بشارت دی تھی۔(دیکھئے کتاب المناقب تشریح باب (۲۶) اس بشارت کا تقاضا ہے کہ آپ کا نسب نامہ تفصیل سے بیان کیا جاتا۔اس تعلق میں متی باب ۲۱ ملاحظہ ہوں۔جہاں لکھا ہے: " جس پتھر کو معماروں نے رڈ کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا۔یہ خداوند کی طرف سے ہوا اور ہماری نظر میں عجیب ہے۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے، دے دی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا، اسے میں ڈالے گا۔“ (متی باب ۲۱: ۴۲ تا ۴۵) نیز اس تعلق میں زبور باب ۱۱۸: ۲۲، ۲۳۔یسعیاہ باب ۲۸: ۱۶، ۱۷ بھی دیکھئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۱۷،۱۶ نے بھی اپنے آپ کو کونے کی وہ آخری اینٹ قرار دیا جس سے قصر نبوت کی تکمیل ہوئی۔(کتاب المناقب، باب ۱۸ روایت نمبر ۳۵۳۴، ۳۵۳۵) اور حجر اسود اسی پیشگوئی کی ترجمانی تصویری زبان میں کرتا ہے۔جس کی نسبت حضرت عمرؓ نے فرمایا: إِنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ۔۔۔(بخاری ، کتاب الحج، باب ۵۰ روایت نمبر ۱۵۹۷) میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، نہ نقصان دیتا ہے اور نہ نفع لیکن ایک علامت ہے۔جب اصل آگیا تو تو سو ایادگار کے کچھ بھی نہیں۔حضرت دانیان نے نبو کد نفر شاہ بابل کی خواب کی تعبیر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس کا تعلق بعثت نبوی سے ہے۔جس میں اسے ایسا پتھر قرار دیا گیا ہے جو بغیر ہاتھ کے کاٹا گیا اور جس نے بت کو توڑا اور دیکھتے دیکھتے ایک پہاڑ بن گیا اور تمام زمین پر پھیل گیا ہے۔(دانیال باب ۲: ۳۴ تا ۳۶) اس تعلق میں دیکھئے فصل الخطاب، ساتویں بشارت کونے کے پتھر کی حضرت دانیال نبی کی طرف سے ، صفحہ ۲۱۷ تا ۲۲۱۔1) التاريخ الكبير للبخاری، جزء اول صفحه ۵ الطبقات الكبرى، ذكر نسب رسول الله ﷺ من ولده الى آدم ، جزء اول صفحه ۵۶