صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 325 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 325

صحیح البخاری جلدے ۳۲۵ - كتاب مناقب الأنصار أَحْيَيْتَ أَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجُنُوةٍ مَاذَا يُمَائِلُكَ بِهَذَا الشَّأْنِ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۲) بہتیرے جو خم کے خم مے پی جاتے تھے تو نے ان کو دین میں متوالے کر دیا بہتیرے بدعتی سارنگیوں سے باتیں کرنے والے تیرے طفیل سے رحمان کے ہم کلام ہو گئے بہتیرے جو خوشبو دہن عورتوں کے عشق میں سرگرداں تھے تو نے انہیں فرقان کی طرف کھینچ لیا تو نے صدیوں کے مردوں کو ایک جلوہ سے زندہ کر دیا، کون ہے جو اس شان میں تیرا نظیر ہو سکے روایت نمبر ۳۸۴۱ میں لبید شاعر کے ایک مصرعہ کا حوالہ دیا گیا ہے جو شعراء زمانہ جاہلیت میں سے چوٹی کا شاعر تھا۔اس مصرعہ سے اس کے ایمان باللہ کا علم ہوتا ہے۔وَكَادَ أُمَيَّةُ بنُ أَبي الصَّلْتِ أَن يُسْلِمَ : یہ شخص زمانہ جاہلیت کے معروف اشخاص میں سے تھا۔ابو الصلت کا نام ربیعہ بن عوف ہے۔تورات و غیرہ کتب دینیہ کا مطالعہ کرنے کے بعد امیہ نے عقیدہ توحید اور حیاۃ آخرت پسند کیا۔جس کا ذکر اس کے شعروں میں اکثر وارد ہوا ہے۔بعض کا خیال ہے کہ اس نے قدیم مذہب نصرانیت اختیار کیا جو توحید پر مبنی تھا اور بعض کے نزدیک وہ یہودی المذہب تھا۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۱۹۳) روایت نمبر ۳۸۴۲ سے ظاہر ہے کہ کہانت اور رمالی ( فال نکالنا) زمانہ جاہلیت کی ان رسوم میں سے ہے جنہیں اسلام نے منسوخ کر دیا۔عبد الرزاق نے اپنی مسند میں اس غلام کا نام نعیمان بیان کیا ہے۔روایت نمبر ۳۸۳۳ میں حبل الحبلہ کا ذکر آتا ہے۔اس کی شرح کے لئے دیکھئے کتاب البیوع باب ۶۱ روایت نمبر ۲۱۴۳۔غرض باقی مانده روایات کے بیان میں بھی یہی مراد ہے کہ اسلام نے ان کی اچھی باتیں قبول کر لیں اور بری باتیں رد کر دیں۔روایت نمبر ۳۸۴۸ میں الحجر سے مراد بیت اللہ کی چار دیواری ہے۔زمانہ جاہلیت میں اس کا نام الحطیم تھا۔اس میں بت تھے جو ہٹائے گئے لیکن اس چار دیواری کا نام باقی رہا۔اگر کسی کو قسم دلائی جاتی تو وہ بوقت قسم اپنا کوڑا یا جو تا یا کمان چار دیواری کے اندر پھینکتا۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۲۰۰، ۲۰۱) یہ رسم بھی منسوخ ہوئی۔حطیم کی وجہ تسمیہ بتائی جاچکی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۸۴۸) روایت نمبر ۳۸۴۹ میں تمثیلی زبان استعمال ہوئی ہے۔قرآن مجید میں قردة کا لفظ یہودیوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔چونکہ یہودیوں میں یہ حکم ہے کہ زانی کو رجم کی سزادی جائے۔اس لئے انہوں نے زانیہ کو رجم کی سزادی۔بعض نے اس واقعہ کو عمرو بن میمون کے خواب کا نظارہ قرار دیا ہے۔۱) مصنف عبد الرزاق، کتاب الجامع، باب الكاهن، جزءا اصفحه ۲۰۹