صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 324 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 324

صحیح البخاری جلدے ۳۲۴ - كتاب مناقب الأنصار میں خیال پایا جاتا تھا کہ سیلاب دن بدن اپنی شدت میں زور پکڑیں گے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۸۹) عبرانی اور عربی قبائل میں سیلابوں سے متعلق یہ مشہور تھا کہ وہ عظیم الشان نبی کی علامت ہے۔(دیکھئے یسعیاہ باب ۲۸ : ۱۹،۱۴) جس سیلاب کا یہاں ذکر ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل آیا تھا اور صفا اور مروہ کے درمیان کی وادی کو اس نے پر کر دیا تھا۔اس سے خانہ کعبہ کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے قریش نے چاہا کہ تعمیر سے اسے محفوظ کر لیا جائے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۸۹) روایت نمبر ۳۸۳۴ میں احمس قبیلہ کی زینب نامی عورت کے خاموش حج کا ذکر ہے، جس کی اس نے منت مانی ہوئی تھی۔یہ حج بھی زمانہ جاہلیت کا حج تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منسوخ فرمایا۔طبقات ابن سعد میں ہے کہ یہ احمسی خاتون عبد اللہ بن جابر کی بچی تھیں۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا اور حضرت ابو بکر سے کئی باتیں نقل کی ہیں۔(۱) بعض احادیث کی کتب میں انہیں زینب بنت جابر بتایا گیا ہے۔امام ابن حجر نے اس اختلاف کا یہ حل کیا ہے کہ بعض وقت نسبت جد امجد کی طرف کی جاتی تھی اور بعض دفعہ باپ کی طرف۔المہاجر زینب کے باپ کا نام تھا اور جابر دادا کا۔(۲) ( فتح الباری جزء ے صفحہ ۱۸۹) روایت نمبر ۳۸۳۶ سے ظاہر ہے کہ عرب لوگ غیر اللہ کے ماسوا کی قسمیں کھانے کے عادی تھے۔جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔روایت نمبر ۳۸۳۷ سے پایا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جنازہ کا ادب ملحوظ رکھا جاتا تھا جو اسلام میں برقرار ہے۔(دیکھئے کتاب الجنائز، روایات باب ۴۹) روایت نمبر ۳۸۳۵ سے پایا جاتا ہے کہ جاہلیت میں مرد عورت کی اندام نہانی ننگا کرنے سے نہ شرماتے تھے۔اسلام نے ایسی بے حیائی سے روک دیا ہے۔روایت نمبر ۳۸۳۸ کے تعلق میں دیکھئے کتاب الحج باب ۹۵ ۱۰۰۔روایت نمبر ۳۸۳۹ میں عرب جاہلیت کی کثرت شراب نوشی کا ذکر ہے۔یہ عادت شراب محبت الہی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معجز نما تاثیر قدسی سے تبدیل ہوئی۔صحابہ کرام رات کو نماز تہجد کے لئے اٹھتے اور پہروں جناب الہی کی یاد میں مخمور رہتے۔دنیا و مافیھا کی خبر نہ ہوتی ان پر محبت الہی کا غلبہ اس حد تک تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک عربی قصیدہ میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہے صحابہ کی اس خلاف عادت تبدیلی کا ذکر مفصل بیان فرمایا ہے۔ان میں سے بطور نمونہ یہ شعر ہیں: گو شَارِبِ بِالرَّشْفِ دَنَّا طَافِحًا فَجَعَلْتَهُ فِي الدِّينِ النَّوَان كُمْ مُحْدِنٍ مُسْتَنْطِقِ الْعِيدَانِ قَدْ صَارَ مِنْكَ مُحَدَّثَ الرَّحْمَنِ كُومُنتَهَاءِ لِلرَّسُوْفِ تَعَثُنا فَجَذَبْتَهُ جَذَّبًا إِلَى الْفُرْقَانِ ١) الطبقات الكبرى، تسمية النساء اللواتي لمديروين عن رسول الله زينب بنت المهاجر الاحمسی، جزء ۸ صفحه ۴۷۰ ۲) الاصابۃ فی معرفۃ الصحابة ، ذکر زینب بنت جابر ، جزءے صفحہ ۶۸۵