صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 323 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 323

صحیح البخاری جلدے ۳۲۳ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار قِرْدَةً اجْتَمَعَ عَلَيْهَا قِرَدَةٌ قَدْ زَنَتْ نے زمانہ جاہلیت میں ایک بندریا کو دیکھا کہ جس فَرَجَمُوْهَا فَرَجَمْتُهَا مَعَهُمْ۔پر بہت سے بندر اکٹھے ہیں۔اس نے زنا کیا تھا۔ان بندروں نے اس کو سنگسار کیا۔میں نے بھی اس کو ان بندروں کے ساتھ سنگسار کیا۔٣٨٥٠: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۳۸۵۰ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ سَمِعَ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ عبيد الله بن ابی یزید ) سے روایت ہے کہ انہوں خِلَالٌ مِنْ خِلَالِ الْجَاهِلِيَّةِ الطَّعْنُ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ فِي الْأَنْسَابِ وَالنِّيَاحَةُ وَنَسِيَ الثَّالِثَةَ انہوں نے کہا: جاہلیت کی خصلتوں میں سے یہ قَالَ سُفْيَانُ وَيَقُوْلُوْنَ إِنَّهَا الْإِسْتِسْقَاءُ خصلت بھی تھی کہ نسب کا طعنہ مارنا اور میت پر نوحہ کرنا اور عبید اللہ تیسری بات کو بھول گئے اور سفیان نے کہا: لوگ کہتے ہیں: تیسری بات بِالْأَنْوَاءِ۔ستاروں کے ذریعہ سے بارش طلب کرنا ہے۔عنہ ۵۷۰ء تشریح: أَيَّامُ الْجَاهِلِيَّةِ : بعثت نبویہ سے ماقبل کا زمانہ مراد ہے۔بعض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے پہلے کے زمانہ پر زمانہ جاہلیت کا اطلاق کیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی تاریخ از روئے تحقیق حضرت الحاج علامہ حکیم نورالدین بھیروی خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ ہے۔(دیکھئے فصل الخطاب ) باب ۲۶ ۲۷ میں میں روایتیں ہیں جن میں زمانہ جاہلیت سے متعلق اچھی اور بری باتوں کا ذکر ہے۔اچھی باتوں کو اسلام نے باقی رکھا اور بری باتوں کو منسوخ۔مثلاً روایت نمبر ۳۸۳۱ میں عاشورہ کے روزہ کا ذکر ہے کہ وہ جاہلیت میں رائج تھا یہ جائز رکھا گیا۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الصوم باب ۶۹) اور روایت ۳۸۳۲ میں عمرہ ایام حج میں گناہ سمجھا جاتا تھا اور اسلام میں یہ خیال رڈ کیا گیا۔زمانہ جاہلیت کے عربوں کا خیال تھا کہ زمانہ حج صرف حج کی ادائیگی ہی کے لئے مخصوص ہے اور اس کے علاوہ دنوں میں عمرہ کیا جاسکتا ہے۔(دیکھئے کتاب الحج باب ۳۴ روایت ۱۵۶۴) حج کے لئے قربانی کرنا ضروری ہے جو صحابہ قربانی کے جانور نہیں لائے تھے اور خریدنے کی استطاعت تھی انہیں یہ اجازت دی گئی اور یہ امر دستور جاہلیت کے خلاف تھا۔روایت نمبر ۳۸۳۳ میں حضرت حزن بن ابی وہب کی روایت کا ذکر ہے۔یہ حضرت حزن وہی شخص ہیں جنہوں نے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ کعبہ کی تعمیر میں مال طیب و حلال صرف کیا جائے اور اس میں سفیان کا جو قول مروی ہے اس سے اشارہ قدیم عربوں کی روایت کی طرف ہے۔ان