صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 322
صحیح البخاری جلد ۳۲۲ - كتاب مناقب الأنصار كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسِ حَدَّثَهُ أَنَّ ہوئے بتایا کہ حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ غلام کریب نے ان سے بیان کیا کہ حضرت لَيْسَ السَّعْيُ بِبَطْن الْوَادِي بَيْنَ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وادی کے نشیب الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سُنَّةً إِنَّمَا كَانَ أَهْلَ میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنا سنت نہیں الْجَاهِلِيَّةِ يَسْعَوْنَهَا وَيَقُوْلُوْنَ لَا ہے بلکہ یہ تو زمانہ جاہلیت کے لوگ دوڑا کرتے نُجِيْزُ الْبَطْحَاءَ إِلَّا شَدًّا۔تھے اور کہتے تھے کہ ہم دوڑ کر ہی اس میدان کے پار جائیں گے۔٣٨٤٨: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۸۴۸ عبد اللہ بن محمد جعفی نے ہم سے بیان کیا الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا کہ سفیان نے ہمیں بتایا۔مطرف نے ہم کو خبر دی مُطَرْفٌ سَمِعْتُ أَبَا السَّفَر يَقُولُ کہ میں نے ابوسفر (سعید بن محمد ) سے سنا۔کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا اللهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ يَقُوْلُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوْا مِنِّي مَا سے سنا۔وہ کہتے تھے: اے لوگو! جو بات میں تم أَقُوْلُ لَكُمْ وَأَسْمِعُوْنِي مَا تَقُوْلُوْنَ سے کہتا ہوں وہ تم مجھ سے سنو اور جو تم کہتے ہو وہ تم مجھے سناؤ اور یہ نہ ہو کہ تم باہر جاکر کہو کہ وَلَا تَذْهَبُوْا فَتَقُوْلُوْا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ابن عباس نے یہ کہا، ابن عباس نے یہ کہا۔جو قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ بیت اللہ کا طواف کرے، چاہیے کہ وہ حجر کے فَلْيَطْفْ مِنْ وَرَاءِ الْحِجْرِ وَلَا تَقُوْلُوْا پرے سے طواف کرے اور حجر کو حطیم نہ کہو۔الْعَظِيْمُ فَإِنَّ الرَّجُلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ حطیم اس کو اس لئے کہتے تھے کہ جاہلیت میں کوئی كَانَ يَحْلِفُ فَيُلْقِي سَوْطَهُ أَوْ نَعْلَهُ شخص جو قسم کھاتا وہ اپنا کوڑا یا اپنی جوتی یا اپنا أَوْ قَوْسَهُ۔کمان وہاں پھینک دیتا تھا۔٣٨٤٩: حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ :۳۸۴۹: نعیم بن حماد نے ہم سے بیان کیا کہ ہشیم حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ عَنْ عَمْرِو نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین سے، حصین نے بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عمرو بن میمون سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں