صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 319
صحیح البخاری جلدے ۳۱۹ - كتاب مناقب الأنصار فَلَمَّا نَزَلُوا عُقِلَتِ الْإِبِلُ إِلَّا بَعِيرًا اس نے اپنی بوری کا منہ باندھا۔جب انہوں نے وَاحِدًا فَقَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَهُ مَا شَأْنُ ڈیرے لگائے تو سب اونٹ سوائے ایک اونٹ کے باندھے گئے۔جس شخص نے اس کو نوکر رکھا تھا هَذَا الْبَعِيْرِ لَمْ يُعْقَلْ مِنْ بَيْنِ الْإِبِلِ اس نے پوچھا: اس اونٹ کو کیا ہوا ہے کہ یہ اونٹوں قَالَ لَيْسَ لَهُ عِقَالٌ قَالَ فَأَيْنَ عِقَالُهُ میں سے نہیں باندھا گیا؟ اس نے کہا: اس کا بندھن قَالَ فَحَذَفَهُ بِعَصًا كَانَ فِيْهَا أَجَلُهُ نہیں ہے۔اس قریشی نے کہا: پھر اس کا بندھن کہاں فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْيَمَن فَقَالَ ہے؟ حضرت ابن عباس کہتے تھے کہ اس نے اس پر لاٹھی پھینکی جو اس کی موت کا موجب ہوئی۔اتنے أَتَشْهَدُ الْمَوْسِمَ قَالَ مَا أَشْهَدُ وَرُبَّمَا میں اہل یمن میں سے ایک شخص اس کے پاس سے شَهِدْتُهُ قَالَ هَلْ أَنْتَ مُبْلِغْ عَنِّي گزرا اور (اس سے) اس نوکر نے پوچھا: کیا تم ہر رِسَالَةٌ مَرَّةً مِنَ الدَّهْرِ قَالَ نَعَمْ سال ہی حج کو جایا کرتے ہو ؟ اس نے کہا: نہیں۔قَالَ فَكَتَبَ إِذَا أَنْتَ شَهِدْتَ لیکن کبھی کبھی جانتا بھی ہوں۔نوکر نے کہا: اگر تو جائے تو کیا میرا یہ پیغام پہنچا دے گا۔اس نے کہا: الْمَوْسِمَ فَنَادِ يَا آلَ قُرَيْشٍ فَإِذَا ہاں۔نوکر نے کہا: جب تو حج میں جائے تو یوں أَجَابُوْكَ فَنَادِ يَا آلَ بَنِي هَاشِمِ فَإِنْ پکاریو۔اے قریش کے لوگو! جب وہ تمہیں جواب أَجَابُوْكَ فَسْأَلْ عَنْ أَبِي طَالِب دیں تو یوں پکاریو: اے بنی ہاشم کے لوگو ! اگر تمہیں فَأَخْبِرْهُ أَنَّ فُلَانًا قَتَلَنِي فِي عِقَالٍ جواب دیں تو ابو طالب کے متعلق ان سے دریافت کرو تو اُن کو تم بتلاؤ کہ فلاں نے مجھے ایک بندھن کی وَمَاتَ الْمُسْتَأْجَرُ۔فَلَمَّا قَدِمَ الَّذِي وجہ سے مار ڈالا ہے اور وہ نوکر مرگیا۔جب وہ شخص اسْتَأْجَرَهُ أَتَاهُ أَبُو طَالِبِ فَقَالَ مَا جس نے اس کو نوکر رکھا تھا (مکہ) پہنچا۔ابو طالب فَعَلَ صَاحِبُنَا قَالَ مَرضَ فَأَحْسَنْتُ اس کے پاس آئے اور انہوں نے پوچھا: ہمارے الْقِيَامَ عَلَيْهِ فَوَلِيْتُ دَفْنَهُ قَالَ قَدْ اس ساتھی کو کیا ہوا؟ اس نے کہا: وہ بیمار ہو گیا تھا۔میں نے اس کی اچھی طرح خدمت کی ( آخر مر گیا) كَانَ أَهْلَ ذَاكَ مِنْكَ فَمَكَثَ حِيْنًا تو میں نے اس کو دفن کر دیا ہے۔ابو طالب نے کہا: ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ الَّذِي أَوْصَى إِلَيْهِ وہ تم سے اسی سلوک کا مستحق تھا۔ابوطالب کچھ أَنْ يُبْلِغَ عَنْهُ وَافَى الْمَوْسِمَ فَقَالَ مدت ٹھہرے۔پھر وہ شخص جسے اس نوکر نے پیغام