صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 320
صحیح البخاری جلدی ۳۲۰ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار يَا آلَ قُرَيْشٍ قَالُوا هَذِهِ قُرَيْسٌ قَالَ پہنچانے کی وصیت کی تھی وہ حج کے موقع پر آن يَا بَنِي هَاشِمٍ قَالُوا هَذِهِ بَنُو هَاشِمِ ہنچا۔ اس نے کہا: اے قریش کے لوگو! لوگوں نے کہا: یہ قریش ہیں۔ اس نے کہا: اے بنی ہاشم کے قَالَ أَيْنَ أَبُو طَالِبٍ قَالُوا هَذَا لوگو ! لوگوں نے کہا: یہ بنی ہاشم ہیں۔ اس نے کہا: أَبُو طَالِبٍ قَالَ أَمَرَنِي فُلَانٌ أَنْ أُبْلِغَكَ ابو طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا۔ ابو طالب یہ رِسَالَةً أَنَّ فُلَانًا قَتَلَهُ فِي عِقَالٍ فَأَتَاهُ ہیں۔ اس نے کہا: فلاں نے مجھ سے کہا تھا کہ میں أَبُو طَالِبٍ فَقَالَ لَهُ اخْتَرْ مِنَّا إِحْدَى تم کو یہ پیغام پہنچا دوں کہ فلاں شخص نے اس کو ایک بندھن کے بدلے مار ڈالا ہے۔ یہ سنتے ہی ابو طالب ثَلَاثٍ إِنْ شِئْتَ أَنْ تُؤَدِّيَ مِائَةً مِّنَ اس شخص کے پاس آئے اور اس سے کہا: ہم سے الْإِبِلِ فَإِنَّكَ قَتَلْتَ صَاحِبَنَا وَإِنْ تین باتوں میں سے ایک بات اختیار کر لو۔ اگر تم شِئْتَ حَلَفَ خَمْسُوْنَ مِنْ قَوْمِكَ چاہو تو ایک سو اونٹ ادا کر دو۔ کیونکہ تم نے ہمارے إِنَّكَ لَمْ تَقْتُلُهُ وَإِنْ أَبَيْتَ قَتَلْنَاكَ ساتھی کو مار ڈالا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہاری قوم کے بِهِ فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالُوا نَحْلِفُ فَأَتَتْه پچاس آدمی قسم کھائیں کہ تم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ اگر تم یہ نہ مانو تو ہم اس کے بدلے تم کو قتل کر دیں امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ كَانَتْ تَحْتَ گے۔ چنانچہ وہ قریشی اپنی قوم کے پاس آیا۔ لوگوں رَجُلٍ مِّنْهُمْ قَدْ وَلَدَتْ لَهُ فَقَالَتْ يَا نے کہا: ہم قسم کھائیں گے۔ یہ سن کر بنی ہاشم کی أَبَا طَالِبٍ أُحِبُّ أَنْ تُجِيْرَ ابْنِي هَذَا ایک عورت جو ان قریشیوں میں سے کسی شخص کی بیوی تھی جس کا ایک لڑکا بھی تھا وہ ابو طالب کے پاس بِرَجُلٍ مِنَ الْخَمْسِينَ وَلَا تُصْبِرْ آئی اور کہنے لگی: ابوطالب ! میں چاہتی ہوں کہ يَمِيْنَهُ حَيْثُ تُصْبَرُ الْأَيْمَانُ فَفَعَلَ ان پچاس لوگوں میں جن سے ایک شخص کے بدلے فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ يَا أَبَا طَالِبٍ قسمیں لی جائیں گی اس میرے بیٹے کی قسم معاف أَرَدْتَ خَمْسِينَ رَجُلًا أَنْ يَحْلِفُوا کر دو اور جہاں قسمیں لی جائیں گی وہاں اس کو قسم کھانے کے لئے مجبور نہ کیا جائے۔ چنانچہ ابو طالب مَكَانَ مِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ يُصِيبُ كُلَّ نے ایسا ہی کیا۔ پھر ان میں سے ایک اور شخص رَجُلٍ بَعِيْرَانِ هَذَانِ بَعِيْرَانِ فَاقْبَلْهُمَا ابو طالب کے پاس آیا اور کہنے لگا: ابو طالب آپ مِنِّي وَلَا تُصْبِرْ يَمِيْنِي حَيْثُ تُصْبَرُ نے یہ چاہا ہے کہ سو اونٹ کے بدلہ پچاس آدمی