صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 317
صحیح البخاری جلدی ۳۱۷ ۳- كتاب مناقب الأنصار خَرَاجِهِ فَجَاءَ يَوْمًا بِشَيْءٍ فَأَكَلَ مِنْهُ اس کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔ ایک دن وہ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ أَتَدْرِي مَا کوئی چیز لایا۔ حضرت ابو بکر نے اس سے کچھ کھایا۔ هَذَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا هُوَ قَالَ غلام نے ان سے کہا: آپ جانتے ہیں یہ کیسی ہے؟ حضرت ابو بکر نے پوچھا: یہ کیسی ہے ؟ اس نے كُنْتُ تَكَهَّنْتُ لِإِنْسَانٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ کہا: میں نے زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کے لئے وَمَا أُحْسِنُ الْكِهَانَةَ إِلَّا أَنِّي خَدَعْتُهُ رمانی کی تھی اور میں رمالی کا علم اچھی طرح نہیں { فَلَقِيَنِي } فَأَعْطَانِي بِذَلِكَ فَهَذَا جانتا تھا۔ مگر میں نے اس کو دھوکا دیا تھا۔ { وہ مجھ الَّذِي أَكَلْتَ مِنْهُ فَأَدْخَلَ أَبُو بَكْرٍ کو ملا } اس نے مجھ کو اس کا معاوضہ دیا ہے۔ سو يَدَهُ فَقَاءَ كُلَّ شَيْءٍ فِي بَطْنِهِ۔ یہ وہی کمائی ہے جس سے آپ نے کھایا ہے۔ حضرت ابو بکر نے اپنی انگلی منہ میں ڈالی اور جو کچھ پیٹ میں تھا سب کے کر دیا۔ ٣٨٤٣: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۸۴۳ : مسدد (بن مسرہد ) نے ہم سے بیان کیا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنِي كه يحي بن سعید قطان) نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا (عمرى) سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: نافع قَالَ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَبَايَعُوْنَ نے مجھے بتایا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: زمانہ جاہلیت کے لُحُوْمَ الْجَزُوْرِ إِلَى حَبَلِ الْحَبَلَةِ قَالَ وَحَبَلُ الْحَبَلَةِ أَنْ تُنْتَجَ النَّاقَةُ مَا لوگ اونٹ کا گوشت حبل الحبلہ کے وعدہ پر بیچا کرتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا: حبل الحبلہ یہ فِي بَطْنِهَا ثُمَّ تَحْمِلَ الَّتِي نُتِجَتْ ہے کہ اونٹنی کے پیٹ میں جو بچہ ہے جنے اور پھر فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس کے بعد وہ جو جنے گی وہ حاملہ ہو۔ نبی صلی اللہ عَنْ ذَلِكَ۔ اطرافه: ۲۱۴۳، ۲۲۵۶ علیہ وسلم نے ان کو اس سے روک دیا۔ ٣٨٤٤ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۳۸۴۴: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی (1) لفظ فَلَقِيَنى فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۸۸) ترجمہ اسکے مطابق ہے۔