صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 316
صحیح البخاری جلد قَالَ مَلْأَى مُتَتَابِعَةً۔۳۱۶ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار الفاظ ہیں، ان کے معنی ہیں: پے در پے بھرے ہوئے گلاس۔٣٨٤٠: قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ :۳۸۴۰ عکرمہ نے کہا: اور حضرت ابن عباس سَمِعْتُ أَبِي يَقُوْلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ نے یہ بھی کہا تھا: میں نے اپنے باپ کو زمانہ اسْقِنَا كَأْسًا دِهَاقًا۔جاہلیت میں کہتے ہوئے سنا: أَسْقِنَا كَأْسًا دِهَاقًا۔یعنی ہمیں بھرے ہوئے گلاس پلاؤ۔٣٨٤١ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۳۸۴۱: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الملک بن أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عمیر سے، عبد الملک نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وَسَلَّمَ أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ فرمایا: نہایت سچی بات جو کسی شاعر نے کہی ہے وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے: كَلِمَةُ لَبِيْدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ دیکھو اللہ کے سوا جو بھی چیز ہے وہ ناپائیدار ہے وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ اور امیہ بن ابی صلت تقریباً مسلمان ہی تھا۔اطرافه: ۶۱۴۷، ۶۴۸۹ ٣٨٤٢: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ حَدَّثَنِي :۳۸۴۲ اسماعیل بن ابی اولیس) نے ہم سے أَخِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ بیان کیا کہ میرے بھائی (عبد الحمید) نے مجھے بتایا۔انہوں نے سلیمان بن بلال سے ، سلیمان نے حْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يحي بن سعيد (انصاری) سے بچی نے عبد الرحمن بْنِ الْقَاسِمِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ بن قاسم سے، عبد الرحمن نے قاسم بن محمد سے، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت كَانَ لِأَبِي بَكْرٍ غُلَامٌ يُخْرِجُ لَهُ کی۔کہتی تھیں کہ حضرت ابو بکر کا ایک غلام تھا الْحَرَاجَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَأْكُلُ مِنْ جو اپنی کمائی سے ان کو دیا کرتا تھا اور حضرت ابوبکر