صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 315
صحیح البخاری جلدی ۳۱۵ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار عَمْرُو أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ انہوں نے کہا: مجھے عمرو (بن حارث) نے بتایا کہ حَدَّثَهُ أَنَّ الْقَاسِمَ كَانَ يَمْشِي بَيْنَ عبد الرحمن بن قاسم نے ان سے بیان کیا۔ قاسم يَدَيِ الْجَنَازَةِ وَلَا يَقُوْمُ لَهَا وَيُخْبِرُ ( بن محمد ) جنازہ کے آگے چلا کرتے تھے اور جنازہ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ دیکھ کر کھڑے نہ ہوتے اور حضرت عائشہ سے يَقُوْمُوْنَ لَهَا يَقُوْلُوْنَ إِذَا رَأَوْهَا كُنْتِ روایت کرتے ہوئے بتلاتے تھے کہ وہ کہتی تھیں: زمانہ جاہلیت کے لوگ جنازہ دیکھ کر اُٹھ کھڑے فِي أَهْلِكِ مَا أَنْتِ مَرَّتَيْنِ۔ ہوتے تھے اور وہ اس کو دیکھتے تو کہتے : تو اپنے اہل و عیال میں دوبارہ آئے ویسے کا ویسا جیسا کہ تو تھا۔ ۳۸۳۸ : حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْعَبَّاسِ ۳۸۳۸ : عمرو بن عباس نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عبد الرحمن ( بن مہدی) نے ہمیں بتایا کہ سفیان عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَمْرِو بْنِ (توری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو اسحاق مَيْمُونٍ قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سے، ابو اسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيْضُوْنَ مِنْ کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مشرک مزدلفہ سے اس وقت تک جَمْعِ حَتَّى تَشْرُقَ الشَّمْسُ عَلَى ثَبِيْرٍ نہ لوٹتے جب تک کہ سورج شبیر پہاڑ پر نہ فَخَالَفَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔ طرفه: ۱۶۸۴ چمکتا۔ اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برخلاف کیا اور سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے لوٹے۔ سے ۳۸۳۹: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۳۸۳۹ اسحاق بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا، قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ حَدَّثَكُمْ کہا: میں نے ابواسامہ سے پوچھا: کیا بیچی بن مہتاب نے تم سے بیان کیا کہ حسین نے عکرمہ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا کہ (سورۃ عَنْ عِكْرِمَةَ وَكَأْسًا دِهَاقًا (النبأ: ٣٥) عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ میں ) جو كَاسَادِهَاقًا کے