صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 314
صحیح البخاری جلدے ۳۱۴ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ کہ میرے مالکوں کی ایک چھوکری باہر گئی۔وہ لال مِنْ أَدَمٍ فَسَقَطَ مِنْهَا فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ چڑے کا موتیوں سے جڑا ؤ ایک ہار پہنے ہوئے تھی الْحُدَيَّا وَهِيَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا فَأَخَذَتْ وہ اس سے کہیں گر گیا۔چیل اسے گوشت سمجھ کر فَاتَّهَمُوْنِي بِهِ فَعَذَّبُوْنِي حَتَّى بَلَغَ جھپٹی اور اس کو لے گئی۔انہوں نے اس کی چوری) مِنْ أَمْرِي أَنَّهُمْ طَلَبُوْا فِي قُبُلِي کا الزام مجھ پر لگایا اور مجھے سزا دی اور یہاں تک فَبَيْنَاهُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي إِذْ نوبت پہنچی کہ انہوں نے میری شرم گاہ کی بھی تلاشی أَقْبَلَتِ الْحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا لی۔ابھی وہ میرے اردگرد تھے اور میں نہایت ثُمَّ أَلْقَتْهُ فَأَحَدُوْهُ فَقُلْتُ لَهُمْ هَذَا بے چینی کی حالت میں تھی کہ اتنے میں وہ چیل الَّذِي اتَّهَمْتُمُوْنِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرَيْئَةٌ سامنے سے آئی اور ہمارے سروں کے عین مقابل آکر اس نے وہ ہار پھینک دیا۔انہوں نے اسے لے طرفه : ۴۳۹۔لیا اور میں نے ان سے کہا: یہ ہے وہ جس کا الزام تم نے مجھ پر لگایا تھا حالانکہ میں اس سے بری تھی۔٣٨٣٦: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا :۳۸۳۶ قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْن اسماعیل بن جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ بن دینار سے، عبد اللہ نے حضرت ابن عمر دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔آپ نے فرمایا: أَلَا مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا سنو ! اگر کوئی قسم بھی کھائے تو وہ سوائے اللہ کے بِاللَّهِ فَكَانَتْ قُرَيْسٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا کسی کی قسم نہ کھائے۔قریش اپنے باپ دادوں کی فَقَالَ لَا تَحْلِفُوْا بِآبَائِكُمْ۔قسمیں کھایا کرتے تھے۔آپ نے فرمایا: اپنے باپ دادا کی قسمیں نہ کھایا کرو۔اطرافه : ۲۶۷۹، ۶۱۰۸، ۶۶۴۶، ۶۹۴۸ ۳۸۳۷ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ :۳۸۳۷ يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي انہوں نے کہا کہ ابن وہب نے مجھ سے بیان کیا۔