صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 313
صحیح البخاری جلدی ا الله ۳- كتاب مناقب الأنصار عَلَى هَذَا الْأَمْرِ الصَّالِحِ الَّذِي جَاءَ نے کہا: تم تو بہت ہی پوچھنے والی ہو۔ میں ابو بکر اللهُ بِهِ بَعْدَ الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ بَقَاؤُكُمْ ہوں۔ اس عورت نے پوچھا: اس اچھے دین پر ہم عَلَيْهِ مَا اسْتَقَامَتْ بِكُمْ أَئِمَّتُكُمْ کب تک قائم رہیں گے جس کو اللہ تعالی جاہلیت کے بعد لایا ہے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: تم اس پر قَالَتْ وَمَا الْأَئِمَّةُ قَالَ أَمَا كَانَ اس وقت تک قائم رہو گے جب تک کہ تمہارے لِقَوْمِكِ رُءُوسٌ وَأَشْرَافٌ يَأْمُرُونَهُمْ امام سیدھے رہیں گے۔ اس نے پوچھا: یہ امام کون فَيُطِيْعُوْنَهُمْ قَالَتْ بَلَى قَالَ فَهُمْ ہیں؟ حضرت ابوبکر نے کہا: کیا تیری قوم میں سردار أُولَئِكَ عَلَى النَّاسِ۔ اور بڑے لوگ نہیں جو لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ ان کی فرمانبرداری کرتے ہیں؟ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: تو پھر یہی وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ٣٨٣٥: حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي ۳۸۳۵: فروہ بن ابی المغراء نے مجھ سے بیان کیا کہ الْمَغْرَاءِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ علی بن مسہر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت عَنْهَا قَالَتْ أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: عربوں میں سے کسی کی سیاہ فام عورت مسلمان لِبَعْضِ الْعَرَبِ وَكَانَ لَهَا حِفْسٌ فِي الْمَسْجِدِ قَالَتْ فَكَانَتْ تَأْتِيْنَا ہوئی مسجد میں اس کی ایک جھونپڑی تھی۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: وہ ہمارے پاس آیا کرتی تھی فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ اور ہمارے پاس باتیں کیا کرتی تھی۔ جب باتوں حَدِيْثِهَا قَالَتْ سے فارغ ہوتی یہ شعر پڑھتی: وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيْبِ رَبِّنَا موتیوں سے جڑا وہار کا دن بھی ہمارے رب کے عجائبات میں سے تھا۔ دیکھو اس نے تو مجھے کفر کی أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ نَجَّانِي بستی سے نجات دی فَلَمَّا أَكْثَرَتْ قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ جب اس نے اس شعر کو بہت دفعہ پڑھا تو حضرت وَمَا يَوْمُ الْوِشَاحِ قَالَتْ خَرَجَتْ عائشہ نے اسے پوچھا: یہ ہار کا دن کیا ہے؟ کہنے لگی