صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 311
صحیح البخاری جلد ۳۱۱ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار يَوْمًا تَصُوْمُهُ قُرَيْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ سے روایت ہے۔وہ کہتی تھیں: عاشورہ کا دن ایسا وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں اس دن روزہ رکھا يَصُوْمُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ کرتے تھے اور نبی صلی کمی بھی اس دن روزہ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا نَزَلَ رَمَضَانُ كَانَ رکھتے۔جب آپ مدینہ میں آئے آپ نے بھی مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ لَا يَصُوْمُهُ اس دن روزہ رکھا اور لوگوں کو اس دن روزہ رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا۔جب رمضان فرض ہوا تو أَشْهُرٍ جو چاہتا عاشورہ کا روزہ رکھتا اور جو چاہتا نہ رکھتا۔اطرافه ۱۵۹۲، ۱۸۹۳، ۲۰۰۱، ۲۰۰۲، ۴۵۰۲، ۴۵۰۴ ۳۸۳۲ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا ۳۸۳۲) مسلم ( بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا کہ وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيْهِ وہیب نے ہمیں بتایا۔(عبد اللہ ) بن طاؤس نے عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ہمیں بتایا، انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ كَانُوْا يَرَوْنَ أَنَّ الْعُمْرَةَ فِي نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی انہوں نے کہا: لوگ سمجھتے تھے کہ حج کے مہینوں میں الْحَجَ مِنَ الْفُجُوْرِ فِي الْأَرْضِ وَكَانُوْا عمرہ کرنا زمین میں گناہ کرنا ہے اور ماہ محرم کو صفر کہا يُسَمُّونَ الْمُحَرَّمَ صَفَرَ وَيَقُوْلُوْنَ إِذَا کرتے تھے اور کہتے تھے: جب پیٹھ اچھی ہو جائے بَرَا الدَّبَرُ وَعَفَا الْأَثَرْ حَلَّتِ الْعُمْرَةُ اور پاؤں کے نشان مٹ جائیں پھر جو عمرہ کرنا چاہتے لِمَنِ اعْتَمَرُ قَالَ فَقَدِمَ رَسُوْلُ اللهِ ہوں ان کے لئے عمرہ جائز ہو جاتا ہے۔حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ابن عباس کہتے تھے : رسول اللہ یا ہم اور آپ کے رَابِعَةً مُهِدِّيْنَ بِالْحَجِّ وَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صحابہ (حجتہ الوداع میں) چوتھی ذوالحج (کی صبح) کو صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْعَلُوْهَا احرام باندھے ہوئے (مکہ میں آئے اور بی نئی ایلیم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ حج کو عمرہ کر دیں۔(یعنی عُمْرَةً قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ أَيُّ الْحِلَ طواف اور سعی کر کے احرام کھول دیں) لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ایسا کرنے سے ہمارے لئے کیا کچھ جائز ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: جو باتیں احرام میں منع تھیں وہ سب جائز ہو جائیں گی۔قَالَ الْحِلُ كُلُّهُ۔اطرافه ۱۰۸۵ ، ۱۵۶۴، ۲۵۰۵-