صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 306
صحیح البخاری جلدے ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار الْوَحْ فَقُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله آپ نے کھانے سے انکار کر دیا۔زید نے کہا: میں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُفْرَةٌ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ بھی اس سے نہیں کھایا کرتا جو تم اپنے تھانوں میں مِنْهَا ثُمَّ قَالَ زَيْدٌ إِنِّي لَسْتُ كُل ذبح کرتے ہو اور میں صرف وہی کھاتا ہوں جس مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عَلَى أَنْصَابِكُمْ وَلَا پر اللہ کا نام لیا جائے۔اور زید بن عمرو قریش کی آكُل إِلَّا مَا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَأَنَّ قربانیوں کو معیوب سمجھا کرتے تھے اور کہتے تھے: زَيْدَ بْنَ عَمْرٍو كَانَ يَعِيْبُ عَلَى بکری کو بھی اللہ نے پیدا کیا اور آسمان سے اس قُرَيْشٍ ذَبَائِحَهُمْ وَيَقُوْلُ الشَّاةُ کے لئے پانی برسایا اور زمین سے اس کے لئے خَلَقَهَا اللهُ وَأَنْزَلَ لَهَا مِنَ السَّمَاءِ چارہ اگایا۔پھر تم اس کو اللہ کے سوا اوروں کے الْمَاءَ وَأَنْبَتَ لَهَا مِنَ الْأَرْضِ ثُمَّ نام پر ذبح کرتے ہو یعنی اس کو بر امنا یا کرتے تھے تَذْبَحُوْنَهَا عَلَى غَيْرِ اسْمِ اللهِ إِنْكَارًا اور اس کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔لِذَلِكَ وَإِعْظَامًا لَّهُ۔طرفه : ۵۴۹۹ :۳۸۲۷ قَالَ مُوسَى حَدَّثَنِي سَالِمُ :۳۸۲۷ موسیٰ نے کہا: سالم بن عبد اللہ نے مجھے بْنُ عَبْدِ اللهِ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا تَحَدَّثَ بِهِ سے بیان کیا اور میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ بھی اس کے متعلق حضرت ابن عمر سے ہی نُفَيْلٍ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ يَسْأَلُ عَنِ روایت کرتے ہوئے بتایا کہ زید بن عمرو بن نفیل الدِّينِ وَيَتْبَعُهُ فَلَقِيَ عَالِمًا مِنَ الْيَهُودِ شام کے ملک کو دین کے متعلق دریافت کرنے کے لئے گئے تا کہ اس کی پیروی کریں۔چنانچہ وہ فَسَأَلَهُ عَنْ دِيْنِهِمْ فَقَالَ إِنِّي لَعَلِي أَنْ أَدِيْنَ دِيْنَكُمْ فَأَخْبِرْنِي فَقَالَ لَا کے دین کے متعلق پوچھا۔انہوں نے کہا: مجھے تَكُوْنُ عَلَى دِيْنِنَا حَتَّى تَأْخُذَ بتائیں شاید میں تمہارا ہی دین اختیار کرلوں۔اس بِنَصِيْبِكَ مِنْ غَضَبِ اللهِ قَالَ زَيْدٌ نے کہا: ہمارے مذہب پر نہ ہونا ورنہ تم بھی مَا أَفِرُّ إِلَّا مِنْ غَضَبِ اللهِ وَلَا أَحْمِلُ غضب الہی سے اپنا حصہ لو گے۔زید نے کہا: میں ایک یہودی عالم سے ملے جس سے انہوں نے ان