صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 305
صحیح البخاری جلدی إِلَّا بِالْمَعْرُوْفِ۔ ۳۰۵ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار ہوں کہ دستور کے مطابق خرچ کر لیا کرو۔ اطرافه ۲۲۱۱، ۲۴۶۰، ۵۳۵۹، ۵۳۶۴، ۵۳۷۰، ۶۶۴۱ ، ۷۱۶۱، ۷۱۸۰ تشريح : ذِكْرُ هِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: حضرت ہند بنت عتبہ حضرت ابوسفیان کی بیوی اور اہم معاویہ ہیں۔ ان کے والد عقبہ بدر کے معرکہ میں مارے گئے تھے ، جیسا کہ کتاب المغازی بابے میں مذکور ہے۔ اپنے خاوند ابو سفیان کے ساتھ غزوہ احد میں کفار کی طرف سے شریک تھیں اور کفار ة قریش کو اکسانے میں پورا زور لگاتی اتی رہیں رہیں اور اور ان ان کی کی تحریک تحریک پر پر آنحضرت آ صلی اللی علم کے چچا حضرت حمزہ شہید ہوئے ہوئے کہ کیونکہ انہوں نے ہنڈ کے چچا شیبہ کو گھائل کیا تھا اور ان کے والد عتبہ کے قتل میں بھی شریک تھے۔ ہنڈ کے اکسانے پر وحشی ر بن حرب نے ان کا پیٹ چاک کو با نشراح صدر قبول کیا۔ جس کا پتہ ان کے بوقت اقرار الفاظ بیعت سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب ان سے یہ اقرار کرنے کو کہا گیا کہ وَلَا يَسْرِقُنَ وَلَا يَزْنِينَ تو انہوں نے کہا: وَهَلْ تَزْنِي الْحُرَّةُ ( کیا شریف خاتون بھی زنا کرتی ہے ) یہ حضرت عمر کی خلافت میں فوت ہوئیں۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۷۹) اور تادم واپسیں اپنے اقرار اسلام پر قائم رہیں۔ ان کے ذکر کے تعلق میں ان کی صاف گوئی قابل تعریف ہے۔ حالت بغض و محبت میں اپنی دونوں حالتوں کا ذکر آنحضرت صلی علی کم سے کھلے الفاظ میں کیا ہے اور اپنے خاوند ابو سفیان کے بارے میں بھی حق گوئی سے کام لیا ہے۔ چاک کیا۔ حضرت ہند عقلمند عورتوں میں شمار کی جاتی تھیں۔ غزوہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام المسلم بَاب ٢٤ : حَدِيْثُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ زید بن عمر و بن نفیل کا واقعہ ٣٨٢٦ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ۳۸۲۶ : محمد بن ابو بکر نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا فضیل بن سلیمان نے ہمیں بتایا کہ موسیٰ بن مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عقبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سالم بن عبد اللہ نے عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ہمیں بتایا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زید بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ زَيْدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عمرو بن نفیل سے بلدح مقام کے نیچے ملے پیشتر نُفَيْلٍ بِأَسْفَلِ بَلْدَحٍ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ اس کے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی۔ نبی عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دستر خوان رکھا گیا۔ (1) یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۸۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔