صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 302 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 302

صحیح البخاری جلدی ۳۰۲ ۳- كتاب مناقب الأنصار ۲۲ تشريح : ذِكْرُ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: یہ باب اور باب ۲۲ صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں حضرت خدیجہ سے متعلق باب سے پہلے ہیں۔ امام ابن حجر نے بھی یہی ترتیب اخت اختیار کی ہے ) جو صحیح تر ہے۔ کیونکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد کے بعد حضرت ہند بنت عتبہ بن ربیعہ کا ذکر ہے جو قابل قدر خواتین صحابیات میں سے تھیں۔ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی یمن کے قبیلہ احمس کے سردار تھے اور شاہانہ ٹھاٹھ میں ان کی بودو باش تھی۔ بجیلہ ان کی والدہ کا نام تھا اور کنیت ابو عمرو۔ ان کا نسب نامہ یہ ہے: ابن عبد اللہ بن جابر بن مالک من بنی انمار بن اراش۔ جس سال مختلف قبائل کے وفود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اسلام کا اعلان کرنے کے لئے آنے لگے یعنی وھ میں، اسی دوران حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی نے مع اپنے قبیلہ کے مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ یہ حجۃ الوداع کے موقع پر موجود تھے۔ چونکہ بلند آواز تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان يا : اسْتَنْصِتِ النَّاس کہ لوگوں کو چپ کراؤ۔ یہ واقعہ آ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ علیہ وسلم کی وفات سے کم و بیش سے فرمایا: انی روز قبل کا ہے۔ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کی وفات ۵۰ھ میں ہوئی۔ یا میں ایک بت تھا ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۷۷) (عمدۃ القاری جزء ۱۶ صفحه ۲۸۳) الْخَلَصَةُ يَا الْخَلَصَةُ نام ایک بت خانہ کا تھا جو بنو خشم و غیرہ قبائل کے علاقہ میں تھا اور اس میں کا جو ذو الخلصہ کے نام سے مشہور تھا۔ اس بت خانہ کا نام کعبہ خانہ کا نام کعبہ یمانیہ اور کعبہ شامیہ بھی تھا۔ یمن میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کو یمانیہ کہتے تھے اور چونکہ شام کی جانب اس کا دروازہ رکھا گیا تھا اس لئے اس کا دوسرا نام کعبہ شامیہ تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۶ صفحه ۲۸۳) ( فتح الباری، کتاب المغازی، باب ۶۲ جزء ۸ صفحه ۸۹، ۹۰) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے عملاً سارا عرب مسلمان ہو چکا تھا اور جہاں ذوالخلصہ تھا وہاں کے لوگ بھی مسلمان ہو چکے تھے۔ نویں اور دسویں ہجری عام الوفود کے نام سے مشہور ہیں۔ ان سالوں میں عرب کے مختلف اطراف سے وفود کی صورت میں لوگ آئے اور انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ۱۰ھ میں قبیلہ بجیلہ اور احمس کے وفد بھی مدینہ میں آئے۔ بجیلہ وفد کے سردار حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی اور احمس کے سردار قیس بن عزرہ احمسی تھے۔ دونوں قبیلوں کے وفود نے اسلام قبول کیا۔ ( الطبقات الکبرای لابن سعد ، وفد بجیلہ ، جزء اول صفحہ ۳۴۷) ان قبائل کے مسلمان ہو جانے کے بعد اس بات کی ضرورت تھی کہ ہر اس محرک کو ختم کر دیا جاتا جس سے دوبارہ شرک پھیلنے کا امکان ہو سکتا تھا۔ اس لئے ذوالخلصہ کا معبد بھی ختم کرنا ضروری تھا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی علاقہ کے وفد کے سردار حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی کو ارشاد فرمایا : هَلْ أَنْتَ مُرِيحِي مِنْ ذِي الْخَلَصَةِ ۔ ا) فتح الباری مطبوعہ دار السلام، كتاب مناقب الأنصار ، باب ۲۲ جزء۷ صفحه ۱۷۸ فتح الباری مطبوعه بولاق، كتاب مناقب الأنصار ، ابواب ۲۰ تا ۲۲، جزء ۷ صفحه ۹۹ تا ۱۰۰ فتح البارى طبعة السلفية كتاب مناقب الأنصار ، ابواب ۲۰ تا ۲۲، جزء۷ صفحه ۱۳۱ تا ۱۳۳