صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 303 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 303

صحیح البخاری جلدے ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار یعنی اب جبکہ سارے عرب کے لوگ مسلمان ہو چکے ہیں تو تمہارے علاقہ میں پر انابت خانہ قائم رہنا اس تشویش کو پیدا کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کمزور لوگوں کے ذریعہ سے شرک دوبارہ سر اٹھا لے۔اس لئے اس بت خانہ کو ختم کرنا ضروری ہے۔چنانچہ حضرت جریر بن عبد اللہ بجلی جو اس علاقہ کے قبائل میں سے تھے وہ اپنے قبیلہ کے ڈیڑھ سو سوار لے کر واپس اپنے علاقہ میں گئے اور اس بت خانہ کو گرادیا۔بعد ازاں اس کے مقام پر وہاں کے رہنے والوں نے ایک مسجد تعمیر کی جو خدائے واحد کے ذکر کو بلند کرنے کا ذریعہ بنی۔(فتح الباری، کتاب المغازی، باب ۶۲ جزء ۸ صفحه ۸۹، ۹۰) بَاب :٢٢: ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ الْعَبْسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت حذیفہ بن یمان عبسی رضی اللہ عنہ کا ذکر ٣٨٢٤ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ :۳۸۲۴ مجھ سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا خَلِيْلٍ أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ کہ سلمہ بن رجاء نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ بن عروہ سے ، ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے اللهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: جب اُحد کی جنگ ہوئی مشرک رَضِيَ أُحَدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ هَزِيمَةٌ بَيِّنَةً لست فاش کھا گئے۔ابلیس نے پکار کر کہا: اے فَصَاحَ إِبْلِيْسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ اللہ کے بندو! تم اپنے پیچھے والوں کی خبر لو۔چنانچہ فَرَجَعَتْ أُوْلَاهُمْ عَلَى أُخْرَاهُمْ جو آگے تھے وہ اپنے پچھلوں پر لوٹ پڑے اور فَاجْتَلَدَتْ مَعَ أَخْرَاهُمْ فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ جو پچھلے تھے ان سے لڑنا شروع کر دیا۔حضرت فَإِذَا هُوَ بِأَبِيْهِ فَنَادَى أَيْ عِبَادَ اللهِ حذیفہ نے جو غور سے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ أَبِي أَبِي فَقَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا لوگ ان کے باپ سے لیٹے ہوئے ہیں۔انہوں حَتَّى قَتَلُوْهُ فَقَالَ حُذَيْفَةُ غَفَرَ الله نے پکارا : اللہ کے بندو! میرا باپ ہے، میرا باپ ہے۔کہتی تھیں: اللہ کی قسم ! وہ نہ رکے یہاں تک لَكُمْ قَالَ أَبِي فَوَاللَّهِ مَا زَالَتْ فِي کہ اس کو مار ہی ڈالا۔حضرت حذیفہ نے یہ دیکھ حُذَيْفَةَ مِنْهَا بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَقِيَ الله کر کہا: تمہیں اللہ بخشے۔(ہشام بن عروہ نے کہا: ) میرے باپ کہتے تھے: اللہ کی قسم! حذیفہ میں عَزَّ وَجَلَّ۔اسی کلمہ کی وجہ سے ہمیشہ بھلائی رہی یہاں تک کہ وہ اللہ عزوجل سے جاملے۔اطرافه ۳۲۹۰، ۴۰۶۵، ۶۶۶۸، ۶۸۸۳، ۶۸۹۰ -