صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 300 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 300

صحیح البخاری جلدے ٣٠٠ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار شرح: تَزْوِيجُ النَّي لا خَدِيجَةً وَفَضُلُهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: زیر باب سات روایتیں ہیں۔پہلی روایت دو سندوں سے مروی ہے جس میں حضرت مریم علیہا السلام اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا ذکر ہے اور یہ فضیلت اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے نسبتی ہے۔بھا کی ضمیر دنیا کی طرف راجع ہے یعنی خَیرُ نِسَاءِ الدُّنْیا - ترجمہ میں دنیا کی عورتیں ہی مراد بتائی گئی ہیں اور یہ فضیلت باعتبار ظاہری خوبصورتی کے نہیں بلکہ تقویٰ اللہ سے متعلق اوصاف حمیدہ ہیں۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے غیر معمولی وفا اور اطاعت شعاری کا نمونہ دکھایا۔دوسری روایت سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی وفات کے بعد انہیں نہیں بھولے۔بندگان نفس تو بالعموم دوسری بیوی کے آنے پر پہلی کو اس کی حین حیات میں ہی گٹھلی کی طرح پھینکے دیتے ہیں۔اس کی موت کے بعد اس کا کیا ذکر ! روایت نمبر ۳۸۱۷ میں الفاظ وَتَزَوَجَنِيْ بَعْدَهَا بِثَلَاثِ سِنِيْنَ کا مفہوم امام نودی کے نزدیک رخصتانہ ہے۔عقد نکاح تو اس سے ایک دو سال قبل ہو چکا تھا جیسا کہ باب تَزُويج التي لا عَائِشَةَ میں مفصل بیان ہو گا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۱۷۱) حضرت خدیجہ کا نسب نامہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قصی سے ملتا ہے۔چنانچہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی۔آپ نے جب ان سے شادی کی تو آپ کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس کی تو کی اور عمر سال سے متجاوز تھی اور وہ بیوہ تھیں۔ان کے خاوند کا نام مالک ابو ہالہ تھا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوا۔اس سے قبل وہ عقیق بن عائذ مخروی کے نکاح میں تھیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کی تجویز سے قبل آپ حضرت خدیجہ کے غلام میسرہ کے ساتھ شام میں گئے تا ان کا سامان تجارت بطور مقارضت وہاں فروخت کریں۔(فتح الباری جزءے صفحه ۱۶۸) مقارضت در اصل مضاربت ہی ہے۔کسی کے مال میں ایک شخص اس شرط پر تجارت کرے کہ اس کی محنت کے عوض نفع میں وہ شریک ہو گا۔(لسان العرب- قرض ) آپ کی دیانتداری اور اخلاق سے میسرہ بہت متاثر تھے۔آپ کے اخلاق حمیدہ کا ذکر سن کر حضرت خدیجہ کو جو مالدار خاتون تھیں، آپ سے نکاح کی رغبت ہوئی اور ان کے اقرباء نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا۔آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی تصدیق کرنے والی خاتون ہیں جیسا کہ مردوں میں سے حضرت ابو بکر۔دونوں نے اپنے اموال وغیرہ سے آپ کی بڑی مدد کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس احسان کو کبھی نہیں بھولے اور آپ کی بعثت سے دس سال بعد رمضان میں فوت ہوئیں۔کم و بیش پچیس سال آپ کے ساتھ زندگی کامل وفاداری کے ساتھ گزاری۔رضی اللہ عَنْهَا۔ہجرت سے تین سال قبل تک زندہ رہیں۔جس کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ کی شادی ہوئی۔اس بارے میں مورخین کا اختلاف ہے۔حضرت خدیجہ کی تصدیق کے بارے میں دیکھئے کتاب بدء الوحی۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا زمانہ جاہلیت میں طاہرہ کے وصف سے مشہور تھیں۔( فتح الباری جزء ے صفحہ ۱۶۸) ریم