صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 20 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 20

صحیح البخاری جلد ۶۱ - كتاب المناقب قصی بن کلاب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھے اور عدنانی کہلاتے تھے۔یہ دانشورانِ عرب میں سے مشہور دانشور تھے اور بڑے فصیح و بلیغ خطیب۔اس تعلق میں مندرجہ ذیل دو حوالے بھی نقل کئے جاتے ہیں جن سے قریش اور بنو خزاعہ کی عداوت سے متعلق سابقہ تاریخ کا علم ہو سکتا ہے: ا فَلَمَّا قَدِمَتْ خُزَاعَةُ مِنَ الْيَمَنِ أَجلَتْ جُرُهُم وَالْتَزَعَتْ مِنْهَا السَّيَادَةً بَعْدَ تَفَرُّقِ سَبَاءٍ عَلَى إِثْرِ حَادِثَةِ سَيْلِ الرِم إِذْ عَرَّجَ عَلَى مَكَّةَ بَنُو حَارِثَ بنِ عَمْرٍو الْمُلَقِّبِ بِخُزَاعَةَ فَاسْتَعَانَ بَنُو حَارِثَ بِكِنَانَةَ بَطَنٍ مِنْ هُنَ) فَغَلَبَهُمْ بَنُو حَارِئَةً وَكَانَ رَئِيسُهُمْ يَوْمَئِذٍ عَمْرَو بْنَ حَيَّ وَاسْتَمَرَّتُ خُزَاعَهُ عَلَى وِلَايَةِ الْبَيْتِ تَخَوَا مِنْ ثَلَاثِ مِائَةِ سَنَةٍ أَحْدَثُوا فِيهَا كَثِيرًا مِنَ الْأَوْهَامِ الْفَاسِدَةِ وَلَا سِيمَا عِبَادَةٌ هُبل یعنی جب سیلاب عرم کے بعد سبا کی قوم منتشر ہو گئی تو خزاعہ یمن سے آئے اور جر ہم قبیلے کو مکہ سے جلاوطن کر دیا اور ان سے سرداری چھین لی۔جب بنو حارثہ بن عمرو جس کا لقب خزاعہ تھا مکہ میں آئے تو بنو حارثہ نے کنانہ سے مدد لی (جو مزہ قبیلے کا ایک خاندان تھا) اور بنو حارثہ ان پر غالب آئے۔ان دنوں ان کا سردار عمرو بن لھی تھا۔خزاعہ بیت اللہ کے تقریباً تین سو سال تک متولی رہے۔اس اثناء میں انہوں نے بہت سے فاسد اوہام بیت اللہ سے متعلق بطور بدعت جاری کئے خصوصا ہبل کی عبادت۔قَدِ اسْتَمَرَّتْ خُزَاعَةُ عَلَى وِلَايَةِ الْبَيْتِ حَتَّى قَوِيَتْ قُرَيْشُ وَتَعَلَّبَتْ عَلَيْهَا فِي بوم بوم الْقَرْنِ الْخَامِس فَاسْتَوْلَى قُمَ بْنُ كِلَابٍ عَلَى أَمْرِ مَكَّةَ وَالْبَيْتِ الْحَرَامِ سَنَةَ ۴۴۰ الْعِيْسَوِيَّةَ وَأَوْلَادُهُ عَلَيْهَا فَرَحَلَتْ خُزَاعَةٌ وَنَزَلَتْ بِبَطْنٍ مُرٍ فِي وَادِي فَاطِمَةَ - یعنی خزاعہ بیت اللہ کے اس وقت تک متولی رہے کہ قریش مضبوط ہو گئے اور پانچویں صدی عیسوی میں اس پر غالب آئے۔قصی بن کلاب نے مکہ اور بیت اللہ کی سرداری اور نگرانی سنبھالی۔یہ واقعہ ۴۴۰ء کا ہے اور اسی طرح اس کی اولاد نے بھی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قبیلہ خزاعہ وہاں سے رحلت کر گیا اور وادی فاطمہ کے قریب صحرائی علاقے مٹر میں ڈیرے لگائے۔(بنو خزاعہ ، اوس اور خزرج سب بنو قحطان ہیں جنہوں نے یمن سے سیل عرم اور سد مارب کی شکست وریخت کی وجہ سے شمالی علاقہ میں ہجرت کی۔) اس تعلق میں مروج الذهب للمسعودى، ذكر مكة وأخبارها وبناء البيت، ولاية الخزاعة أمر البيت ، جزء اول صفحه ۱۹۱ - نيز ولاية البيت تؤول الى قصى بن كلاب، جزء اول صفحہ ۱۹۲ بھی دیکھئے۔تاریخ ابن خلدون میں یہ ذکر الكتاب الثاني ، القول فى أجيال العرب ، الطبقة الثانية من العرب، الخبر عن قريش وملكهم بمكة ، جزء ۲، صفحہ ۳۹۶ میں دیکھئے۔